Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Hover Effects

TRUE

Pages

{fbt_classic_header}

Header Ad

LATEST:

latest

Ads Place

Beautiful Chahch Valley In Attock

 اٹک کی حسین وادی جسے چھچھ کے نام سے یاد کیا جاتا ہییہ خوبصورت وادی صوبہ پنجاب کے شمالی اور آخری ضلع اٹک میں واقع ہے۔یہ وادی دریائے سند ھ کے...

 اٹک کی حسین وادی جسے چھچھ کے نام سے یاد کیا جاتا ہییہ خوبصورت وادی صوبہ پنجاب کے شمالی اور آخری ضلع اٹک میں واقع ہے۔یہ وادی دریائے سند ھ کے ساتھ ساتھ جنوب میں شرقاً غرباً تقریباً انیس میل لمبی اور شمالاً جنوباً آٹھ میل چوڑی ہے تاریخی مقام اٹک اس خطہ میں واقع ہے۔وادی کے مشرق میں کوہ گنگر ہے جس کے ساتھ اب مشہور تربیلا بند تعمیر ہوا ہے جنوب مغرب میں اٹک کے پہاڑیاں ہیں۔وادی کے جنوب میں کامرہ کی پہاڑی ہے جس کے دامن میں ہوائی جہازوں کا مشہور کارخانہ کامرہ ایرو نارٹیکل کمپلکس بنایا گیا ہے جبکہ جنوب مشرق میں لارنس پور وولن ملز (گرم کپڑے تیار کرنے کا مشہور کارخانہ)اور دریائے ہرو کا پُل ہے وادیِ چھچھ کے شمال میں دریائے سندھ اور اس کے پار مشہور تاریخی قصبے او ہند(ہنڈ) اور قدیم لاہور (الاہوار) واقع ہے جو اس وقت صوبہ سرحد کے ضلع صوابی میں شامل ہے شاہراہ پاکستان وادی کے جنوبی حصہ کو کاٹتی ہوئی گزرتی ہے اس وادی میں کم و بیش چوراسی موضعات کی موجودگی سے اسے چورا سی چھچھ بھی کہا جاتا ہے فی الحال حضرو اس کا مرکزی قصبہ ہے یہاں کی آب وہوا اتنی شدیدنہیں ہے جتنی پنجاب کے دوسرے علاقوں کی ہے۔پانی کی وافر مقدار درختوں اور سبزہ کی کثرت کی وجہ سے گرمی نسبتاً کم رہتی ہے۔گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 41۔38درجہ سینٹی گریڈ اور سردیوں میں 5.3 ۔ 3درجہ سینٹی گریڈ۔یہاں کی زمیں ہر قسم کی فصلوں کے لیے موزوں ہے جن میں گند م،مکئی،چنا،جَو،مونگ پھلی،آلو،گنا،اور تمباکو وغیرہ شامل ہیں۔پھلوں میں انگور،ناشپاتی،مالٹا،سنگترہ،لیمو ں،امرود،آڑو،آلو بخارا،خوبانی،شامل ہیں۔وادی چھچھ کی سبزیاں راولپنڈی،اسلام آباد،لاہور،کراچی تک فروخت کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔سبزیوں میں شلغم، مولی،گاجر،کدو،توری،بھنڈی،پالک،میتھی،گوبھی،لہسن،پیاز،آلو،مٹر،ٹماٹروغیرہ عام ہیں۔یہاں کے دیسی خربوزے اور تربوز شیرینی اورخوبصورتی میں مشہور ہیں۔جبکہ حضرو کادیسی تمباکو پاکستان کے دُور دراز علاقوں کو بھیجا جاتا ہے۔وادی چھچھ کی زرخیزی کے بارے میں ’’مرزا صاحبان‘‘ کے مصنف پیلوکا یہ ہندکوشعر بہت مشہور ہے۔

پیلو چڑھیاگنگری نظرکرے کھلو  چھچھ سمندردی جو بیجوسوہو

جبکہ وادی چھچھ کی خوبصورتی کے بارے میں مولانا حبیب النبی خاکسار کے پشتو چار بستہ سے چند اشعار ذیل میں دیے جاتے ہیں۔ترجمہ:۔قدر دان لوگ وادی چھچھ کو عزیز سمجھتے ہیں کیوں کہ یہ وادی ہر لحاظ سے پیاری ہے۔پاکستان کے خوبصورت دیس میں و ادی چھچھ ایک حسین خطہ ہے اور اتنا بھی حسین کہ اس کے حسن کی تعریف ناقابل بیان ہے۔ اس سلسلہ میں راقم الحراف کے چند پشتو شعر ملاحظہ ہوں جو اس وادی کے بارے میں کہے گئے تھے۔ ترجمہ:۔کسی نے تو اسے مصر کے علاقے سے تشبیہہ دی اور کوئی اسے خطہ ٗکشمیر قرار دیتا ہے چھچھ کی وادی خوبصورتی میں واقعی بے نظیر ہے،اس وادی کی خوبصورتی میرے نزدیک اس کی آب و ہوا تاریخی مقامات،اٹک اور گنگر کے پہاڑوں ااور دریائے سند ھ کے نیلے پانی پر ہی موقوف نہیں ہے بلکہ اس کی خوبصوررتی اس کے باسیوں کے اچھے کردار اور غیرت کی وجہ سے ہے۔حضرو کے رہنے والے۔آغا شہباز علی جعفری نے’’چھچھ نامہ‘‘کے نام سے ایک طویل نظم وادی ٗ چھچھ کے بارے میں کہی ہے جس کا تذکرہ آگے کیا جائے گا۔یہاں آب پاشی کے لیے لاتعداد کنوئیں (رہٹ)موجود ہیں جن پر موجودہ دور میں حسبِ توفیق کہیں کہیں بجلی یا ڈیزل کی موٹریں لگائی جارہی ہیں۔صرف مشرقی چھچھ میں ایک دو گاوٗں ایسے ہیں جن کی کچھ زمینیں قبلہ بانڈی ڈیم کی ایک چھوٹی سی نہر سیراب کرتی ہے۔بیل کی جگہ اب ٹریکٹر لے رہا ہے۔زراعت کے جدید طریقے بڑی تیزی سے اپنائے جارہے ہیں۔اگر وادی ٗ چھچھ کے شمال میں دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ متعدد جنگلات میں حکومت کی سرپرستی میں نئی قسم کی گھاس اور درخت اُگائے جائیں،مویشی فارم،مچھلی فارم،مرغی فارم،نرسریاں قائم کر لی جائیں تو علاقہ کے عوام کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی کافی فائدہ پہنچے گا۔اس کے علاوہ محفوظ شکار گائیں بنائی جائیں تو جنگلی جانوروں کے تحفظ کے علاوہ سیاحوں کی دلچسپی کا سامان بھی ہو گا۔جبکہ موجودہ حالات میں ان جنگلات کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہے۔وادی ٗچھچھ کے باسیوں کی طبیعت شروع سے ہی مہم جُو رہی ہے چاہے وہ کسی بادشاہ کے لشکر میں شمولیت کی شکل میں ہو یا تجارت کی شکل میں،تبلیغ دین کی صورت میں یا پھر ملازمت کے سلسلے میں غرض یہ ہر دور میں سر گرم رہتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آجکل بھی وادی ٗ چھچھ کے لوگ پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت بڑی تعداد میں انگلستان،امریکہ،کینیڈا،لیبیا،جرمنی،ہالینڈ،سعودی عرب،سنگا پور،تھائی لینڈ،ویت نام،قطر،کویت،عراق،ایران،متحدہ عرب امارات،جاپان ہانگ گانگ اور آسٹریلیاوغیرہ میں آباد ہیں۔اوروطن عزیز کے لیے لاکھوں ڈالرزکا زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔اندرون ملک بھی چھچھ کے باشندے بڑے بڑے شہروں میں اپنے کاروبار میں سر گرمِ عمل ہیں۔بھارت کے شہربمبئی میں بھی چندخاندان ابھی تک بدوباش رکھتے ہیں۔کیوں کہ تقسیم ہند سے پہلے یہ شہر غریبوں کا ’’مائی باپ‘‘کہلاتا تھا۔اب کراچی کو یہ درجہ مل گیا ہے۔راولپنڈی شہر میں بھی ایک محلہ چھاچھی محلے کے نام سے منسوب ہے۔کچھ خاندان لاہور،خانیوال،کچاکھوہ،بہاولپور،صادق آباد،سکھر،خیر پور،حیدر آباد،رحیم یار خان،میرپورخاص میں بھی سکونت رکھتے ہیں اور تجارت یا زمینداری کرتے ہیں۔وادی چھچھ کے چند دیہات جو حضروکے قریب وجوار میں ہیں سیم سے سخت متاثر ہیں،لاکھوں کروڑوں روپے کی جائیداد تباہ و برباد ہو رہی ہے،لیکن ا س کی اصلاح کے لیے خاطر خواہ اور مستقل بندوبست نہیں کیا گیا۔ (ازقلم: سکندر خان)

No comments

Ads Place