97

دنیا کی پراسرار ترین جگہ ٹیکسلاقسط 4

ٹیکسلاعجائب گھر 1911 میں ٹیکسلا کے کھنڈرات کی دریافت کے بعد 1918 میں عجائب گھر کا سنگ بنیاد لارڈ وائسرائے اور گورنر جنرل کلیمس فورڈ نے رکھا۔ آرکیٹکٹ لی ایم سلیوان نے اس کو ڈیزائن کیا جو میو سکول آف آرٹ لاہور سے فارغ التحصیل تھے۔ افتتاح سرمحمد حبیب اللہ نے 5اپریل 1928 کو کیا۔ اس عجائب گھر کی تزئین و آرائش اور اشیاء قدیمہ کی ترتیبِ نو 2003 میں کی گئی۔تمام اشیا ء کو تدریج و تسہیل کے بین الاقوامی انداز سے پیش کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ عجائب گھر کے ساتھ ملحقہ باغات کو از سرِ نو سنوارا اور سجایاگیا ہے۔میوزیم کے پائیں باغ میں پیپل کا ایک درخت خاص طور سے سری لنکا سے لاکر لگایا گیا ہے۔اس درخت کی تخصیص یہ ہے کہ یہ اس درخت کی ایک پھوٹ ہے جس کے نیچے بیٹھ کر مہاتمابدھ نے نروان حاصل کیا تھا۔دوسری صدی ق م میں شہنشاہ اشوک کی لڑکی سنگھامیتااصل درخت کی ایک پھوٹ سیلون لے گئی تھی جہاں انورادھاپور کے شہر میں یہ پروان چڑھتا رہا۔ 12دسمبر 1963 میں جب آمر جنرل ایوب خان سیلون کے دورے پر گئے تو سیلون کے وزیر اعظم نے انہیں اس مقدس درخت کی پھوٹ تحفے میں دی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ٹیکسلا عجائب گھر سے ملحقہ باغ میں یہ پودا اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ بودھا کا نایاب مجسمہ جو برلن سے واپس لیاگیا محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق تمام آثار قدیمہ کو افادہء عام و خاص کے لیے تدریجاً صفحہ قرطاس پہ مرقوم و محفوظ کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایاگیا ہے جو اس وقت ٹیکسلا کے عجائب گھر میں محصور ہیں۔ دوسرے مرحلے میں آثار قدیمہ کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے اور شائع کرنے کا سلسلہ 1500سے زیادہ قدیم استوپ آثار و نوادرات پر مشتمل ہے جب کہ تیسرا مرحلہ 3000 سے زیادہ ٹیراکوٹا کے نایاب آثار اور 4000 سے زیادہ دھاتی نوادرات پر مبنی ہوگا۔ محکمے نے بتایا کہ ان تمام کتابی مشمولات کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ ان کی غیر قانونی سمگلنگ کو روکا جاسکے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کوئی ملک نوادرات پر تحریری مواد کے ثبوت کے بغیر ان پر حقِ ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس کی مثال بودھا کا وہ نایاب مجسمہ ہے جو برلن سے واپس حاصل کیا گیا ہے کیوں کہ اس کو کتابی صورت میں محفوظ کرلیاگیا تھا۔ یہ مجسمہ وادی پشاور سے چوری ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کثیر تعداد میں ٹیکسلا آثار قدیمہ کے نوادرات کو سٹورز میں محفوظ کیا گیا ہے اور بہت کم کو عجائب گھر کی زینت بنایاگیاہے۔ یہی صورت حال پشاور کے عجائب گھر میں بھی درپیش ہے جہاں950 نوادرات افادہ عام کے لیے رکھے گئے ہیں جب کہ 4544 محفوظ خانے میں رکھے گئے ہیں۔ سوات کے عجائب گھر میں 151نوادرات افادہء عام کے لیے اور 3029 محفوظ خانوں میں رکھے گئے ہیں۔اتنی کثیر تعداد کے نوادرات کو منظر عام سے پوشیدہ رکھنے کی وجوہات یہ ہیں کہ عجائب خانوں کی موجودہ وسعت اس کی متحمل نہیں۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ جاوید چوہدری صاحب کو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں