99

دنیا کی پراسرار ترین جگہ ٹیکسلاقسط 3

سر سکھ:تیسرا شہر سر سکھ ہے۔سرکپ اور سرسکھ کی وجہ تسمیہ اس علاقے کی لوک کہانیوں کے ایک کردار راجا رسالو اور سات شیطانوں سے منسوب کی جاتی ہے۔ دو بھائی سر کپ اور سرسکھ اس علاقے کے حکم ران تھے۔ اس شہر کی فصیل 18فٹ موٹی ہے اور بھاری بھرکم نیم قوسی ستونوں سے اسے مزید مضبوط کیا گیا ہے۔فصیل 4500 فٹ شرقاً غرباً 3300 فٹ شمالاً جنوباًپیمائش کی گئی ہے۔ اس کی تعمیر میں بنیادی کردار عظیم کنشک نے ادا کیا۔ شہر قریباً مستطیل شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ شہر کی پیمائش قریباً 1500 x 1100 گز ہے فصیل خوب صورت ڈائپر شکل میں ہے۔ابھی اس شہر کے یہی چند نوادرات دریافت ہوپائے ہیں۔ مشہورعبادت گاہیں اور خانقاہیں: مذکورہ بالا تینوں شہروں کے علاوہ ان شہروں کے اطراف ایک وسیع رقبے پربدھوں جینیوں اور آتش پرستوں کی عبادت گاہیں اور خانقاہیں بکھری ہوئی ہیں۔ٹیکسلا پوری دنیا میں اپنے خوب صورت ممتاز اور ممیّز قسم کی عبادت گاہوں اور خانقاہوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ قدیم زمانے میں ٹیکسلا جین مت کا ایک اہم مرکز تھا اور اس مذہب کی عبادت گاہوں کے آثار یہاں جابجا پھیلے ہوئے ہیں۔ ٹیکسلا کے گرداگرد پھیلے ہوئے چند اہم استوپ اور خانقاہیں مندرجہ ذیل ہیں::دھرماراجیکا استوپ (500۔100ب م) پاکستان میں موجود غالباً سب سے پرانا استوپ ہے۔ عجائب گھر سے 2 میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ مندر بدھا کی راکھ کو از سر نو تقسیم کرنے کے لیے موریا خاندان کے مشہور بادشاہ اشوک اعظم نے تعمیر کیا تھا۔ اشوک کو بدھ مت کی خدمات کے عوض دھر ماراجا کا خطاب ملاتھا۔ اسے 1912۔16 میں دریافت کیاگیا۔ اس گول استوپ جس کا قطر 131 فٹ اور بلندی 45 فٹ ہے۔ پتھروں کی کاری گری کا شاہکار ہے۔ 30 ب م کے زلزلے سے اس استوپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔ 40 ب م میں کشان حکم رانوں نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا اور اسے گوتم بدھ کی زندگی کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرنے والے مجسموں سے مزین کیا۔ یہ استوپ گندھارا آرٹ کے شاہ کار کا درجہ رکھتا ہے۔ ۲: جندیال مندر سرکپ شہر کے شمال کی طرف ہے۔ اس کو غالباً یونانیوں نے تعمیر کیا تھا جو یہاں آنے سے قبل آتش پرست تھے۔ اسے یونانی فن کا بہتر نمونہ قرار دیاجاسکتاہے۔ ۳:موہڑہ مرادو استوپ ٹیکسلامیوزیم کے شمال مشرق سے قریباً 6کلومیٹر پر واقع ہے۔ اسکے ساتھ خوبصورت خانقاہ بھی ہے جس میں27حجرے مربع صورت اور ترتیب میں بنائے گئے ہیں اور ایک مربع صحن اس کے بیچوں بیچ ہے۔ 16فٹ اونچے صحن پر یہ استوپ بنایا گیا تھا اور اس کے متصل ایک چھوٹا استوپ بھی ہے۔ نویں حجرے میں ایک 20فٹ اونچی برجی پائی گئی ہے۔ یہ کسی بڑے بھکشو کی تپسیا کی جگہ تھی اور اسی کی عظمت کو سلام کرنے کے لیے یہ یادگار بنائی گئی تھی۔ اس یادگار کی نقل عجائب گھر میں رکھی گئی ہے۔ ۴:جولیاں(200۔500 ب م) کا مندر عجائب گھر سے 7کلو میٹر شمال مشرق میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ یہ 916۔17 میں دریافت ہوا۔یہاں سے برآمد ہونے والے بدھ کے اکثر مجسمے پتھر چونے اور جپسم سے بنے ہوے ہیں۔ اس کے ساتھ ملحق خانقاہ ہے اور اس سے منسلک باورچی خانے اور غسل خانے وغیرہ بہتر حالت میں ہیں۔ یہاں سے برِہمی علامتی اور سنسکرت میں لکھی گئی کچھ تحریریں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ یہ تحریریں پانچویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ۵: کلاوان استوپ دھرماراجیکا سے شمال کی طرف قریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ۶:پپلان استوپ کے ہر طرف پیپل کے درخت تھے جس سے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ یہ 1923۔24 میں دریافت ہوا۔ یہ استوپ پہلوی دور یا ابتدائی کشان دور سے تعلق رکھتاہے۔ یہ سر سکھ سے جنوب مشرق میں قریباً دو میل کے فاصلے پر ہے۔ ۷:بھیمالا استوپ 1930۔31ء میں دریافت ہوا۔ یہ سرسکھ سے شمال مشرق میں قریباً 5میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کے علاوہ بھلڑا استوپ کنالا استوپ اوراس کے ساتھ منسلک خانقاہ قادر موہڑا اور اخوری بھی قابلِ دید ہیں۔ زیادہ تر پانچویں صدی عیسوی کے دوران تعمیر کیے گئے تھے۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ جاوید چوہدری صاحب کو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں