123

دنیا کی پراسرار ترین جگہ ٹیکسلاقسط 2

بھیر ماؤند:ٹیکسلا کا پہلا شہر بھیر ماؤند(200۔600ق م) کے نام سے موسوم ہے یہ وہی شہر ہے جہاں اشوک نے حکومت کی یہ وہی دور ہے جس میں تعمیراتی شاہ کار تخلیق ہوئے۔اس دور میں دنیا بھر میں اس معیار کا کام کہیں بھی نہیں پایا جاتا۔ ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل اور بعد ازاں پاکستانی ماہرین نے اس شہر کا کچھ حصہ بازیافت کیا ہے۔ یہ شہر 600 میٹر شرقاً غرباً اور 1000میٹر شمالاً جنوباً طویل تھااور اسے کچی اینٹوں گارے اور لکڑی سے بنی انتہائی مضبوط فصیل کے ذریعے محفوظ کیاگیا۔ اس کی کاری گرانہ مہارت بے مثال ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ شہر تین بار تباہ ہو ا۔ سرکپ:دوسرا شہرسرکپ (200ب م۔تا۔200ق م) باختری عہد میں تعمیر ہوا اس کی تعمیر میں اعلیٰ یونانی جیومیٹریکل ذوق جھلکتا ہےاس کی تعمیر سطح مرتفع پوٹھوہار کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔علم الارضیات پر ان لوگوں کی نظر گہری تھی۔ زمین کا تہ در تہ اور باہم دِگر ہونا چند جدید ارضیاتی دریافتوں میں سے ہے جس سے وہ لوگ آشنا تھے چناں چہ وہ ایک گہرا کنواں کھودتے جو پینے کے پانی کے لیے کھودے جانے والے کنوؤں سے زیادہ گہرا ہوتا تھا دونوں کی گہرائی میں کم از کم دو ارضی تہوں کا فاصلہ ہوتا تھا تاکہ دونوں پانی آپس میں نہ مل سکیں۔دوسرا اہم کام اس میں یہ تھا کہ بے پیندے کے مٹکے اوپر تلے رکھ کر باہم جوڑ دیے جاتے تاکہ گندا پانی دائیں بائیں درمیانی سطح زمین سے صاف پانی کے کنوؤں کو آلودہ نہ کرپائے۔ یہ بے پیندے کے مٹکے ٹیکسلا کے عجائب گھر میں موجود ہیں۔ شہر خوب صورت مربعوں اور جیومیٹری کی پر کشش ڈرائنگ سے مزین ہے۔ یہ شہر 200 ق م میں بنایا گیا۔ پورا شہر ایک فصیل کے ذریعے محفوظ کیا گیا تھا جو پتھروں سے بنائی گئی تھی۔21 فٹ چوڑائی کے مسلسل وقفوں کے بعد نیم ڈھلوانی ستونوں سے دیوار کو مضبوط کیاگیا تھا اس کے علاوہ شہر کی پشت پر موجود پہاڑ پر ایک پولیس چوکی اس حفاظتی نظام کو مزید مستحکم کرتی تھی۔ شہر کا نقشہ اس بات کا غماز ہے کہ یہ شہر کسی ماہر ٹاؤن پلانر کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ ایک خاصی چوڑی مرکزی شاہ را ہ ہے۔ دائیں بائیں گلیاں متناسب انداز سے بنائی گئی ہیں۔ ایک کمرہ چند انچ بلند دوسرا نیچے اور تیسرا اس سے نیچے تعمیر کیا جاتا تھا تاکہ نکاسی آب میں ڈھلوان کی قوت کو استعمال کیا جا سکے۔ مرکزی شاہ راہ پر ذرا آگے چل کر بازار آتا ہے پھر اشرافیہ کا رہائشی علاقہ اور اس کے بعد بادشاہ کا محل اور بڑا مندر آتا ہے۔ یہ ایک سیکولر شہر تھا اس میں آتش پرست بت پرست اور بدھ مت کے ماننے والے رہتے تھے۔یہ بات دوہرے سروں والے عقابوں کے مندر سے مترشح ہوتی ہے یہ برصغیر میں اپنی نوعیت کا واحد مندر ہے جس میں ہندو ایرانی اور یونانی تینوں تہذیبوں کے دیوی دیوتا موجود ہیں۔ شہر کے مغربی حصہ میں دربار عام محافظوں کی جگہ دربار خاص اور رہائشی علاقے ہیں۔ خواتیں کے کوارٹرز کے ساتھ ایک چھوٹا سا مندر بنا ہوتا تھا۔ سب سے بڑا مندر مرکزی شاہ راہ کے شرقی حصہ میں واقع ہے جو ایک اونچے پلیٹ فارم پر بنایا گیا تھا۔ اس کے چہار طرف دالان تھے اور دیواروں کو مجسموں اور خوب صورت تصویروں سے مزین کیا گیا تھا۔شہر کی آسودہ حالی کا اندازہ یہاں سے برآمد ہوے سونے چاندی کے زیورات کی کثرت سے ہوتا ہے۔ان زیورات پر بنائے گئے نقش و نگار ان لوگوں کے ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس شہر گم گشتہ کی تلاش میں زیادہ تر جس حصہ میں کھدائی ہوئی ہے وہ ہتھیال کی پہاڑی کے شمال میں ہے۔ بالائی سطح سے لے کر 23 فٹ کی گہرائی تک آثار کی مسلسل سات تہیں دریافت ہوئی ہیں۔ یعنی سات شہر اوپر تلے واقع ہیں۔ان تہوں سے پتا چلتا ہے کہ شہر چار سو سال تک آباد رہا۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ جاوید چوہدری صاحب کو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں