139

شیخ احسن الدین(ایڈووکیٹ) صاحب کاانٹرویو

شیخ احسن الدین کاتعلق چھچھ کے گاؤں تاجک کے معروف اور تعلیم یافتہ شیخ خاندان سے ہے۔ آپ کے والد شیخ محمد یعقوب (مرحوم) نے اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کی۔ آپ کے داد ا نے قیام پاکستان سے قبل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ آپ کے چچا شیخ ضیاء الدین لاہور میں ایک قابل اور ایمان دار وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کے نانا شیخ عبدالمنان اکوڑہ خٹک کے ایک بڑے جید عالم دین تھے، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ شیخ احسن الدین زمانہ طالب علمی میں ایک بہترین مقرر، ادیب وشاعر اورافسانہ نگار تھے۔ آپ کا کلام مختلف جرائدو اخبارات میں شائع ہوا۔ آپ نے تقریری مقابلوں میں صوبائی سطح پر متعدد انعامات حاصل کیے ۔1972 ؁ء میں وکالت سے منسلک ہونے کے بعد سابق سینیٹر احمد وحیداختر (مرحوم) کے چیمبرسے وابستہ ہوئے، جو پیپلزپارٹی کے ایک اہم راہنما بھی تھے۔ شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ نے 2002 ؁ء میں پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کاالیکشن لڑا۔ وکلاء کی سیاست میں آپ کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ آپ کو مسلسل 7مرتبہ ڈسٹرکٹ بار کونسل کا صدر بننے کااعزاز حاصل ہے۔ اس کے علاوہ آپ اورآ پ کے ساتھی وکلاء صداقت علی خان اور سید عظمت بخاری کی چیف جسٹس بحالی تحریک میں کردار کو بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ اس وقت آپ کاشمار اٹک کے سینئر ترین وکلاء میں کیاجاتاہے جو تمام وکلاء کیلئے اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں ۔
س:نام /ولد یت ج:شیخ احسن الدین ولد شیخ محمدیعقوب۔تخلص: احسن حجازی۔
س:تاریخ پیدائش/جائے پیدائش ج:15جون1949 ؁ء / اٹک۔
س:قوم/قبیلہ ج:شیخ۔
س:تعلیمی قابلیت ج:بی ایس سی، ایل ایل بی(پنجاب یونیورسٹی)۔
س:بچپن/لڑکپن کے مشاغل ج:شعروشاعری، افسانہ نگاری۔
س:پسندیدہ کھیل /کھلاڑی ج:کرکٹ/عمران خان، عبدالقادر، شاہد آفریدی۔
س:پروفیشن ج:وکالت۔
س:پروفیشنل زندگی کاآغاز ج:1972 ؁ء میں احمد وحید اختر سینیٹر مرحوم کے چیمبر سے وابستگی جو کہ مرحوم کی وفات تک قائم رہی۔
س:پروفیشنل اچیومنٹس ج: صدر ڈسٹرکٹ باراٹک1992 ؁ء تا1999 ؁ء (سات سال تک مسلسل بلامقابلہ ) ،
ممبر پنجاب بار کونسل86ء تا91ء ، بلامقابلہ فنانس سیکرٹری سپریم کورٹ بار 2006 ؁ء تا 2009 ؁ء ، ایڈیشنل سیکرٹری سپریم کورٹ بار2009تا2010 ؁ء بلامقابلہ۔
س:پروفیشنل خدمات ج:تحریک کے دوران ملک گیر لیول پر چیف جسٹس آف پاکستان کے ہمراہ کراچی ،کوئٹہ، لاہور، سکھر، بہاولپور، ملتان ،ایبٹ آباد، پشاور کے دورے، وکلاء کی ترقی کیلئے ہر فورم سے وابستگی اور آواز بلند کرنا، انسانی حقوق کیلئے جدوجہد۔
س:سیاسی وسماجی خدمات ج:پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی 1969 ؁ء سے متعدد بار پارٹی کے عہد میں قید وبند کی صعوبتیں۔1985 ؁ء کی بحالی جمہوریت کی تحریک، سیاسی قیدیوں کی دیکھ بھال۔ بحالی عدلیہ کی تحریک سے وابستگی اور چیف جسٹس آف پاکستان اور رفقا ججز کی رہائی اور بحالی کیلئے جدوجہد، پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر2002 ؁ء میں قومی اسمبلی کاالیکشن، ظلم کے خلاف جہدِمسلسل ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحافیوں پر حکومتی تشدد کیلئے جلسے جلوس ،مارشل لاء کے خلاف تحریک میں شمولیت، منیر اے ملک کی اٹک جیل نیز ہماری ہی بدولت تشویش ناک حالت پر ائمسی انٹرنیشنل اور ملکی سطح پر رابطے، پاک چین دوستی اور پاک ویت نام دوستی کے فورم کا سیکرٹری ہونے کا اعزاز وغیرہ ۔
س:پسندیدہ عالم دین/سیاستدان/شاعر/صحافی(لوکل انٹرنیشنل)؟ ج:ڈاکٹر فاروق نائیک، ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد/ احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکر، نظیر اکبر آبادی ،حبیب جالب، محسن نقوی/ ملک اسماعیل، محسن رضا خان، سردارسلطان سکندر ، انصار عباسی، نیئر طلعت حسین، محمود شام۔
س:پسندیدہ شعر:
اتنی تو عمر مرے فن کو عطا کر مولا
میرا دشمن مرے مرنے کی دعا کو ترسے
س:پسندیدہ کلاس فیلو/استاد ج:غلام حسین شمیم(مرحوم)، افتخار حسین ٹیچر، غلام سرور ٹیچر، پروفیسر عبدالباقی /
پروفیسر اشفاق علی خان، ڈاکٹر سعد اللہ کلیم، اعجاز بٹالوی۔
س:زندگی کا خوشگوار ترین دن ج:افتخار محمد چوہدری کی بحالی۔ 20جولائی2007 ؁ء۔
س:زندگی کا ناخوشگوار (غمگین) ترین دن ج:ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی۔04اپریل1979 ؁ء۔
س:زندگی کا یادگار ترین لمحہ یا واقعہ ج:21اپریل1974 ؁ء(شادی کا دن)۔
س:شدید ترین خواہش ج:اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو دنیا کاعظیم اور ترقی یافتہ ملک بنادے (آمین)
س:پسندیدہ رنگ /خوشبو/لباس ج:نیلا/یاسمین، چنبلی، نرگس کا پھول/شلوار قمیض۔
س:پسند یدہ سیاسی پارٹی ج:پاکستان پیپلز پارٹی۔
س:پسندیدہ ٹی وی چینل ج:آج، جیو، ڈان، دنیا۔
س:آپ کی نظر میں چھچھ کے اہم ترین مسائل ج:غربت،، سود خوری، پولیس کی دہشت گردی اور سیاسی دھڑے بازی اور اجارہ داری، منشیات ،تعلیم کی کمی، جرائم کا بڑھنا اورلوگوں کے بیرونِ ملک جانے کے بعد گھر سے لمبی دوری سے سماجی ومعاشرتی مسائل کا پھیلاؤ۔
س:آپ کی نظر میں سب سے بڑی نیکی ج:دوسروں کے دکھ میں شرکت، مستحق کی مدد۔
س:آپ کی نظرمیں سب سے بڑا گناہ ج:ظلم، منافقت۔
س:کس بات پر سب سے زیادہ غصہ آتاہے: ج:جب انّا پر زَد پڑتی ہو۔
س:کس عمل سے دلی سکون ملتاہے : ج:لوگوں کے دکھ سکھ میں شرکت سے
س:کس چیزیا سوچ سے زیادہ خوف آتا ہے ج:مستقبل میں قوم کے بچوں کی حالت زار۔
س:اگر شیطان سے ملاقات ہو جائے تو ج:اتنی دیر کے بعد ملے ہو۔
س: آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیاجائے تو سب سے پہلاکام کیا کریں گے ج:استغفار۔
س:اہلیان چھچھ کے لیے آپ کا پیغام :ج:لوگوں کے دکھ بانٹو، دکھ سکھ میں شریک ہوکر مذہبی اور سماجی فریضہ پورا کرو، ظلم اور ریاکاری ،منافقت سے نئی نسل کو بچاو اور بیرونِ ملک سے کمائی ہوئی دولت کا صحیح استعمال کرنا سیکھو اور سیاسی اجارہ داریوں کاخاتمہ کرو۔نئی نسل کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرو۔عمران خان حقیقتاً آپ کا یہ کام منفرد اور تاریخی اہمیت کاحامل ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ایسے اچھے کام کرنے کی ہمت دے ۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں