348

شیخ آفتاب احمدصاحب کاانٹرویو

شیخ آفتاب احمد چھچھ کے معروف گاؤں تاجک کی معزز شیخ فیملی میں شیخ غلام سرور کے ہاں پیدا ہوئے۔ حاجی شیخ غلام سرور کا شمار چھچھ اٹک کی نامی گرامی شخصیات میں کیاجاتا تھا ،جو گورنمنٹ کنٹریکٹر تھے اوراپنی مہمان نوازی اور غریب پروری کے باعث خصوصی شہرت رکھتے تھے۔ شیخ آفتاب احمد نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پائیلٹ ہائی سکول اٹک سے حاصل کی۔ بعدازاں آپ نے گریجویشن کیا۔ آپ کے بڑے بیٹے کانام شیخ سلیمان سرور جبکہ دوسرے کانام شیخ نعمان ہے ۔ شیخ سلیمان سرور اور شیخ نعمان صوم وصلوۃ کے پابند، دین دار نوجوان ہیں،جوعام طور پر بڑے لیول کے سیاستدانوں کے بیٹے نہیں ہوتے۔ شیخ نعمان حافظِ قرآن بھی ہیں۔ شیخ آفتاب احمد کے چھوٹے بھائی کانام شیخ شاہد محمود شہدی ہے، جو سیاسی امور میں آپ کی معاونت کرتے ہیں۔یہ سابق چیئرمین بلدیہ اٹک بھی رہے ہیں ۔
شیخ آفتاب احمد نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز 1982-83 ؁ء میں بلدیاتی الیکشن میں کونسلر کی حیثیت سے حصہ لے کر کیا۔الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد آپ چیئر مین بلدیہ اٹک منتخب ہوئے۔ 1985 ؁ء کے انتخابات میں آپ نے ایم پی اے کی حیثیت سے حصہ لیااور ممبر پنجاب اسمبلی بنے۔ 1988 ؁ء کے الیکشن میں آپ نے بحیثیت ایم این اے حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے بعد 1990 ؁ء،1993 ؁ء اور 1997 ؁ء کے انتخابات میں آپ نے فتوحات کی ہیٹرک مکمل کی، جو کہ ضلع اٹک میں ایک منفرد ریکارڈ ہے۔2003 ؁ء کے انتخابات میں آپ نے بعض وجوہات کی بناء پر الیکشن اپنے بڑے بیٹے شیخ سلیمان سرور سے لڑوایا۔ اس الیکشن میں فتح ملک امین اسلم کا مقدر بنی اور شیخ سلیمان سرور ہار گئے ۔2008 ؁ء کے انتخابات میں شیخ آفتاب احمد نے مشکل ترین حالات کے باوجود غیر متوقع طور پرتاریخی کامیابی حاصل کی۔ بقول شیخ آفتاب احمد یہ الیکشن اُن کی زندگی کا سب سے اہم اور مشکل الیکشن تھا۔ کیونکہ حکومت کی تمام مشینری میرے خلاف تھی۔ 2008 ؁ء کے انتخابات میں جب الیکشن سے کچھ دن قبل میری ملاقات شیخ آفتاب سے اُن کے گھر میں ہوئی تو شیخ آفتاب احمد نے مجھ سے اور میرے ساتھ گئے ہوئے دوسرے صحافی ساتھیوں سے پوچھا کہ حلقہ این اے 57میں کون سا امید وار فیورٹ ہے
اور لوگوں کا کیا رجحان ہے، توراقم نے شیخ آفتاب احمد کے استفسار پر جواب دیا کہ میرے خیال میں ملک امین اسلم ہاٹ فیورٹ ہیں۔ جبکہ دوسری پوزیشن ایمان وسیم کی لگتی ہے۔ جس کے جواب میں شیخ آفتاب احمد کچھ دیر خاموش رہے اور بعدازاں مسکراتے ہوئے بولے کہ عمران ’’بے شک میرے ساتھ بڑے ناموں والے نہیں لیکن آپ کو ایک بات بتادوں کہ عام غریب عوام کاووٹ میاں نواز شریف کے اِس سپاہی کو پڑے گا‘‘، بعد میں اس دوراندیش سیاستدان کا تجزیہ سچ ثابت ہوااور میاں نوازشریف نے اٹک کے تاریخی جلسہ میں ان کی فتح کی نوید سنادی اور شیخ آفتاب احمد کم و بیش299ووٹ سے جیت گئے۔ بعدازاں انہیں دفاعی پیداوار کی سٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنایاگیا۔
شیخ آفتاب احمد مسلم لیگ(ن) کے انتہائی فعال رکن ہیں۔ قومی اسمبلی میں آپ کی نشست قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے بالکل پشت پر ہے۔علاوہ ازیں ان کا آفس بھی ان کے عقب میں واقع ہے۔اِس وقت آپ کا شمار نہ صرف مسلم لیگ ن کے سینئر بلکہ ملک کے سینئرراہنماؤں میں کیاجاتاہے۔آپ پاکستان بالخصوص ضلع اٹک کے اُن چند سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جو اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کرتے اور جن کی سیاسی جدوجہد قابل صد تحسین ہے۔ شیخ آفتاب بااخلاق ،ملنسار اور مہمان نواز سیاست دان ہیں۔ دستر خوان کی وسعت میں یہ اپنے ہم عصر سیاستدانوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔
شیخ آفتاب احمدکے بقول میاں نواز شریف اُن کے پسندیدہ سیاستدان اور علامہ اقبال اُن کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ انسانیت کی بے لوث خدمت سب سے بڑی نیکی اوراِن کی حق تلفی اور ظلم سب سے بڑا گناہ ہے۔ آپ کی نظر میں تمام جید علمائے کرام اور صحافی قابل احترام ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ جس دن میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے وہ دن پاکستانی قوم کیلئے تاریخی حیثیت کاحامل ہے۔ آپ میاں نواز شریف کو قوم کا نجات دھندہ قرار دیتے ہیں اور میاں برادران ہی قوم کو درپیش سنگین مسائل اور مصائب سے نکال باہر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ شیخ صاحب کی نظر میں موجودہ دور میں میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ بقول شیخ آفتاب احمدقوم کو میاں نوازشریف، چیف جسٹس اور میڈیا سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں۔آپ کا چھچھ کے لوگوں کے لئے پیغام ہے کہ وہ ملک وقوم کے وسیع تر مفاد میں میاں نواز شریف اور اُن کے وفادار ساتھیوں کا ساتھ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں