440

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر1

عرضداشت: آج سے کچھ ہی عرصہ قبل میں نے حضرت مولانا مفتی محمد عثمان نوّ ر ا ﷲ مرقدہٗ کا ایک مقالہ ’’ تذکرہ حضرت مفتی محمد عمرؒ ٰ ‘‘ شائع کرنے کی سعادت حاصل کی تو علمی و مذہبی حلقوں نے بے پناہ پذیرائی بخشی ، جس سے میرے حوصلے بلند ہوئے اور میں نے حضرت مفتیؒ کا ایک اور مقالہ سامنے لانے کا فیصلہ کیا ، چونکہ یہ مقالہ بھی حضرت مفتیؒ کے خاندان سے متعلق ہے ، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ پہلے سے مطبوعہ مقالہ ’’تذکرہ مولانا مفتی محمد عمرؒ ‘‘ اور یہ مقالہ یکجا مرتب کر کے شائع کیے جائیں ، تا کہ اس خانوادے کا بھر پور تعارف علمی دنیا کے سامنے آ جائے ۔
زیرِ نظر مقالہ حضرت مفتیؒ نے اپنے دادا مرحوم حضرت مولانا فضلِ حق محدث شمس آبادیؒ کے حیات و سوانح سے متعلق تحریر کیا تھا اور اس کی روداد بھی ’’ تذکرہ مولانا مفتی محمد عمرؒ ‘‘ سے کسی طور مختلف نہیں ہے ۔ یہ مقالہ بھی انتہائی خستہ و بوسیدہ حالت میں تھا۔ آفرین ہے کہ مفتی محمد عثمانؒ کی اہلیہ محترمہ اُ م سہیل نے اس مقالہ کو بھی انتہائی محبت وعقیدت کے ساتھ سنبھال کر دست بردِ زمانہ سے بچائے رکھا ۔ اب ہر دو شخصیات کے سوانحی حالات یکجا سامنے آنے سے اس خاندان کے کئی مخفی گوشے سامنے آئیں گے۔ بقول مولانا مفتی محمد عثمانؒ ’’ کم از کم پنجاب میں محدث شمس آبادیؒ پہلے قاری تھے ، جو حجاز سے پورا قرآن تحقیق و تدقیق سے پڑھ کر مصری لہجہ میں سندِ فراغت لے کر آئے تھے ۔‘‘اس سے جہاں اس علمی خانوادہ کی علمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، وہیں اس خاندان کی قدامت اور اس کے بزرگوں کی حصول علم کی تلاش و جستجو کا بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ محدثِ شمس آبادیؒ نے کس طرح کس مپرسی کے عالم میں مکہ معظمہ تک رسائی حاصل کر کے وہاں کے علوم و معارف سے اپنا دامن بھر بھر لیا ۔یہ ساری سرگزشت اس سے پہلے سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی علمی و مذہبی حلقوں کو محدث شمس آبادیؒ کے بارے میں زیادہ آگاہی ہے ۔ اس مقالہ کے منصۂ شہود پہ آنے سے علمی دنیا کو پہلی دفعہ معلوم ہو گا کہ چھچھ کی مٹی میں کیسے کیسے گوہر ہائے آبدار پوشیدہ ہیں ۔ اے کاش! یہ مقالہ بھی ’’تذکرہ مفتی محمد عمرؒ ‘‘ کی طرح بھر پور ہوتا تو ایک مکمل تاریخ کی حیثیت رکھتا مگر مؤلف یہ مقالہ محدثِ شمس آبادیؒ کے اساتذہ کرام تک ہی لکھ پائے تھے ۔ ممکن ہے اگر مکمل بھی لکھا ہو تو اس کے بقیہ صفحات محفوظ نہیں ہیں ۔ اس لیے میں نے اپنے طور پہ محدّثِ شمس آبادیؒ کی اولاد و اخفاد اور وفات وغیرہ کے حوالے سے تحقیق کے ساتھ لکھ کر اسے مکمل کرنے کی کوشش کی ہے ۔
یہ مقالہ بھی آج سے کم و بیش نصف صدی قبل تحریر کیا گیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ اس میں جن اشخاص کا ذکر خیر ہوا ہے وہ اب یقیناً قید حیات سے آزاد ہو چکے ہوں گے ۔ اسی لیے ان میں سے بعض معلوم افراد کے بارے میں مختصر تعارفی نوٹ بھی دے دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مقالہ کے حوالے سے بھی ’’ تذکرہ مفتی محمد عمرؒ ‘‘ میں ’’ عرضِ مرتب ‘‘ کے عنوان سے جو تفصیلات دی گئی ہیں ، بعینہٖ اس مقالہ کی بھی وہی صورتِ حال ہے ۔ البتہ میرے مکرم جنابِ راشد علی زئی کی کوششوں سے ماہنامہ ’’تعلیم القرآن ‘‘ راول پنڈی میں مطبوعہ اسناد کی نقول اور بعض مطبوعہ فتاویٰ حاصل کر کے ان صفحات میں شامل کر دیئے گئے ہیں ۔ اسی طرح قابلِ صد احترام مولانا صالح محمد خان مدظلہٗ جو ایک معروف صاحبِ علم و قلم اور ہفت روزہ ’’ خدّام الدین ‘‘ لاہور کے سابق مدیر ہیں ، انہوں نے مؤلفِ محترم اور اپنے استاذِ گرامی (مفتی محمد عثمانؒ ) کا بھرپور تعارف تحریر کر کے اس تذکرہ کی اہمیت کو دو چند کردیا ہے ۔ میرے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کو الفاظ نہیں ہیں ۔ میں جنابِ مکرم استاذ العلما شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد امتیاز خان دامت برکاتہم کا بھی تہۂ دل سے ممنون ہوں ، جنہوں نے اپنے تاثرات تحریر کر کے میری حوصلہ افزائی کی ہے ۔
اسی طرح میرے بعض احباب جنہوں نے دل کھول کے میری حوصلہ افزائی کی ، اُن میں خاص طور پہ امام اہلسنت علامہ خالد محمود دامت برکاتہم (سابق چیف جسٹس شرعی عدالت پاکستان)، برادرم مفتی محمد ادریس ( بہبودی ) ازلنگٹن ، قاری عبدالرشید ( اولڈہم )، قاری تصور الحق مدنی ( جنرل سیکریٹری جمیعت علمائے برطانیہ ، برمنگھم ، وکیلِ صحابہؓ حضرت مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی ( برمنگھم )، مولانا محمد حذیفہ ابنِ مولانا محمد زبیرؒ ، ممبر طفیل خان حضروی ( بریڈ فورڈ) ، معروف صحافی محمد سلیم صابری ( لندن)، سلطان محمد خان ( سلیم خان ) حال مقیم اولڈہم اور عرب امارت سے برادرِمکرم محمد فیاض انجمؔ وغیرہ قابلِ ذکر اور میرے خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں ۔آخر میں جس شخصیت کے ادائے سپاس کا معاملہ ہے وہ میرے محترم و مکرم راشد علی زئی ہیں ، جن کی حسبِ سابق اس تذکرہ کی ترتیب و اشاعت میں بھی بھر پور رہبری و رہنمائی میرے شاملِ حال رہی ہے ، لہٰذا میں اور میری اہلیہ محترمہ ان کا جس قدر بھی شکریہ ادا کریں کم ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور مؤلف موصوف حضرت مولانا مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے اجداد کی قبور کو بقعۂ نور بنادے ۔ آمینO اولڈھم ( یو کے ) ابو ظفیر خان محمد عمرتوحید ی 15 ؍اکتوبر 2014 ء چیئرمین پاسبانِ صحابہؓ برطانیہ ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں