169

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر7

والہانہ اشتیاق کی ایک خوبصورت مثال!محمدفیاض انجم علی زئی
متاعِ دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافرادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی
ارضی و سماوی حوادث بھی صادق جذبوں کے آگے سجدہ ریزہوا کرتے ہیں ۔اوراقِ پارینہ کی شیرازہ بندی سہل نہیں ہے۔اگرچہ چہار اطراف سے تمازتِ وحشت و بربریت رگ ر گ سے نمِ زندگی چوس لینے کے درپے ہے ،لیکن حالات چاہے کتنے ہی اعصاب شکن اور دگرگوں کیوں نہ ہوں ، استقامت اور عمل پیہم پر گرفت ممستحکم ہوتووہاں منازل قدم بوس ہوجاتی ہیں ۔جن تلخ اور کٹھن حالات میں برادرِ عزیزمحمد عمر توحیدی نے اپنے والہانہ اشتیاق کو بروئے کار لاتے ہوئے جس طرح چمن کی آبیاری کی ہے ، اس سے دور دور تک اس کی خوشبو پہنچے گی ،راستے معطر ہوں گے اور علمی و ادبی فضائیں سدا مہکیں گی۔تاریخ وادئ چھچھ محمد عمر توحیدی کی اس کاوش ’’ تذکرۂ مفتی محمد عمر ‘‘پر ہمیشہ احسان مند رہے گی کہ انہوں نے ایک اہم فریضہ ادا کر دیا۔میں صدق دل سے انہیں اس فرض سے سبکدوش ہونے پر مبارک پیش کرتا ہوں۔کتاب کے بیک ٹائیٹل پر موجود محترم راشد علی زئی کی دل کش تحریر پر تبصرہ مجھ ناچیز کے بس کا روگ نہیں،اس کے لیے میرے پاس لفظوں کی دلکشی اور زباں کا مٹھاس کہاں کہ دادو تحسین کا حق ادا ہو، ماسوائے اس دعاکے:
ع اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں