205

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر6

محمد عمر توحیدی کا کارنامہ:مفتی محمد ادریس ( بہبودی )
چھچھ کی سر زمین بڑی زرخیز ہے ، یہاں بڑے باکمال لوگ پید اہو ئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں سے علم وعرفان کے چشمے جاری فرمائے ۔ اس دھرتی پر خدا جانے علم و فن اور دانش و بینش کے ترشے ہوئے کتنے نگینے انگشتری کمال پر جمائے گئے ۔ چھچھ کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہاں کے اکابر و شیوخ ایک حقیقت ہیں ، جن سے ملکوں کے لوگوں نے دین الٰہی کا فیض حاصل کیا ۔ انہی اکابرینِ چھچھ میں ایک نام مفتی محمد عمر ؒ کا بھی ہے ۔ جن کا تذکرہ میں نے اپنے استاذِ مکرم شیخ الحدیث مولانا عبدالسلامؒ کی زبانی کئی مرتبہ سُنا ۔ مفتی محمد عمرؒ جامع الصفات و جامع المحاسن بزرگ تھے ۔ بڑے بڑے علما ان کے فتویٰ پر اعتماد فرماتے تھے ۔ انہوں نے واقعی دین کا قشر و لب پایا ۔ اُنؒ کے علم کی گہرائیاں بڑی کشادہ تھیں ، ان کی زندگی شریعت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی اور طریقت کے میزان میں تلی ہوئی تھی ۔ وسعت مطالعہ ، تدریسی خدمات ، افتا ، دستر خوان کا وسیع ہونا اور حسنِ اخلاق الغرض ساری صفات میں اپنی مثال آپ تھے ۔ وہ خیر و بھلائی پھیلانے کے از حد کوشاں اور رموز فن سے واقف تھے ۔ آفرین ہے نوجوان مجاہد محترم محمد عمر توحیدی پر کہ انہوں نے جس محنت کے ساتھ اس مختصر کتاب میں اپنے ہم نام مفتی محمد عمرؒ کی زندگی کے چند گوشوں کو ترتیب دیا ہے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ واقعی توحیدی صاحب نے دریا کو کوزہ میں بند کیا ہے ۔ اس مختصر سوانح سے مفتی محمد عمرؒ کی اُجلی شخصیت اور روشن کردار دوپہر کے سورج کی طرح ہم جیسے طالب علموں پر عیاں ہو گیا ۔ قارئین اس مختصر سوانح سے ایک مثالی ہستی سے متعارف ہوں گے ۔ اللہ انہیں چھچھ کے باقی اکابر جو مولانا فضلِ حق محدّث شمس آبادی اور مفتی محمد عمرؒ کی طرح گوشۂ گم نامی میں پڑے ہیں کے سوانح ترتیب دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اس کتاب کی ترتیب و تزئین پر محمد عمر توحیدی اور ان کے معاونین صد تحسین و مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ جزاھم اللہ احسن الجزا O

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں