80

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر5

حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ،حضرت مولانا عبدالرحمن امروہوی رحمہ اللہ تعالیٰ،حضرت مولاناقاری محمد طیب رحمہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰسے بھی شرفِ تلمذ حاصل ہوا تھا ۔ ہمارے حضرو آمد سے قبل ہی چوں کہ اُن کا شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰسے تعلق خاص تھا اور وہ اُن کے قائم کردہ ’’ مدرسہ حسینیہ ‘‘ دریا میں اکثر طلبا کے امتحانات کے علاوہ بھی تشریف لاتے رہتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ ماہنامہ ’’ تعلیم القرآن ‘‘ راول پنڈی کے لیے باقاعدگی سے لکھتے بھی تھے ، اسی بدولت اُن کے ساتھ قیامِ دریا کے دوران ہی ہمارے دوستانہ تعلقات ہو گئے تھے ۔ جب ہمارا حضرو آنا ہوا تواُس وقت وہ گورنمنٹ ہائی سکول حضرو میں عربی و اسلامیات کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے گھر پر طلبا کو دینی کتب بھی پڑھاتے تھے ۔آپ سکول سے چھٹی کے بعد اکثر اوقات ہمارے پاس ’’ جامعہ عربیہ اشاعت القرآن ‘‘ حضرومیں آ کر آرام فرماتے ۔ اس دوران ان سے مختلف مسائل پر گفتگو رہتی ۔ وہ کبھی کبھی اپنے خاندانی حالات بھی بیان فرماتے ۔ اپنے والد مرحوم مفتی محمد عمر رحمہ اللہ تعالیٰکے کئی واقعات سنائے ۔ مفتی محمد عمر رحمہ اللہ تعالیٰکو تفسیر ، حدیث ، فقہ کے علاوہ تمام دینی علوم پر عبور تھا اور اپنے زمانہ میں تمام علاقہ چھچھ میں فتویٰ کا کام سر انجام دیتے تھے ۔ حضرت میاں خدا بخش حضروی رحمہ اللہ تعالیٰفرماتے تھے کہ : ’’ حضرت مفتی محمد عمر رحمہ اللہ تعالٰیہمارے ساتھیوں میں سے تھے اور خلافت کے زمانہ میں یہ اگر کوئی بھی فتویٰ دیتے تھے تو آپ کے فتویٰ پر پورا عمل کرایا جاتا تھا ۔ ‘‘
افسوس کہ آج کی موجودہ نسل تو کیا علمائے کرام بھی اُن کے نام و مقام سے بے خبر ہوتے چلے جارہے ہیں ، مگر صد مبارک باد ہو عزیزِ محترم محمد عمر توحیدی کو جنہوں نے مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰابن مفتی محمد عمر شمس آبادی رحمہ اللہ تعالیٰکے پرانے خاندانی کاغذات کھنگال کر مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰکی دو نایاب تحریریں جو اُنہوں نے اپنے اجداد سے متعلق لکھ رکھی تھیں ، ڈھونڈھ نکالی ہیں ،اور اب انہیں ترتیب و تہذیب کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کر رہا ہے ۔ قلم و قرطاس سے تعلق رکھنے والے افراد اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہیں کہ یہ جان جوکھوں کے کام ہوتے ہیں اور اس پروقت کے ساتھ ساتھ کثیر سرمایہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے ، مگر عزیزم ان تمام امور سے بخوبی نمٹ کے اس سے قبل مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰکی ایک تحریر ’’ تذکرہ مفتی محمد عمر رحمہ اللہ تعالیٰ‘‘ کے نام سے سامنے لا چکا ہے ۔ اب زیرِ نظر تالیف اسی تذکرہ کے ساتھ مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰکی ایک اور تحریر ’’ تذکرہ محدثِ شمس آبادی مولانا فضلِ حق رحمہ اللہ تعالیٰ ‘‘ یکجا کر کے شائع کررہا ہے ۔ جس سے شمس آباد کے اس علمی خاندان کی خدمات سے علمی دنیا کو آگاہی حاصل ہو سکے گی ۔ کیوں کہ اس سے قبل اس خاندان کی علمی خدمات پردۂ تاریکی میں تھیں ۔
زیرِ نظر تالیف میں علاقہ چھچھ کے جس علمی خاندان کا تذکرہ ہے ، اُس کا تعلق شمس آباد گاؤں سے ہے ۔ اس علمی خاندان کا سلسلہ مولانا محمد منیر رحمہ اللہ تعالیٰ سے شروع ہوتا ہے ۔ اس کے بعد مولانا برہان الدین رحمہ اللہ تعالیٰ،جن کی وفات بدورانِ طوافِ کعبہ ہوئی اور وہیں ’’جنت المعلٰی ‘‘ میں مدفون ہوئے ۔ ان کی وفات کے بعد اُن کے صاحبزادے جامع المعقول و المنقول شیخ الحدیث حضرت مولانا فضلِ حق محدّث شمس آبادی رحمہ اللہ تعالیٰنے مکہ معظمہ سے واپس آ کے اس علاقہ میں حدیث کی گراں قدر خدمت انجام دی ۔ زیرِ نظر تالیف انہی ’’ محدّث شمس آبادی رحمہ اللہ تعالیٰاور اُن کے نامور فرزند مفتی محمد عمر شمس آبادی رحمہ اللہ تعالیٰکے تذکرہ پر مشتمل ہے ، جسے مفتی محمد عمر رحمہ اللہ تعالیٰکے صاحبزادے مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰفاضلِ دیوبند نے آج سے قریباً نصف صدی قبل تحریر کیا تھا ۔ اس کے ساتھ شاگردِ عزیز مولانا صالح محمد خان نے مصنف محترم مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰکے حوالے سے مفصل تعارف لکھ کر اس تذکرہ کی گویا تکمیل کر دی ہے ۔ اب پڑھنے والوں کو اس میں تین پشتوں کے حالات ملیں گے ۔یہ تذکرہ معلوم نہیں کب تک گوشۂ گم نامی کی زینت بنا رہتا ، مگرآج اسے عوام کے سامنے لانے کی سعادت مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰکے لائق داماد عزیزم محمد عمر توحیدی کو حاصل ہو رہی ہے ، اگر یہ تذکرہ سامنے نہ آتاتو یقیناً ضائع ہو جاتا ، اس لیے اس ایک اچھی دینی خدمت کے لیے محمد عمر توحیدی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ یہ آں عزیز کا ایک بڑا کارنامہ اور چھچھ میں رجال کی تاریخ میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عزیزم محمد عمر توحیدی اور ان کی اہلیہ محترمہ کو ان نیک ہستیوں کے ذکر خیر کو شائع کرنے پر اجرِ عظیم عطا فرمائے اور اس کتاب کو قبولِ عام حاصل ہو ۔ آمین !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں