194

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر4

تاثرات :شیخ الحدیث مولانا محمد امتیاز خان مدظلہٗ
مدرسہ ’’ جامعہ عربیہ اشاعت القرآن ‘‘ حضرو کے قیام سے پہلے راقم الحروف ’’ جامعہ رحمانیہ ‘‘ بہبودی میں تدریس کے فرائض انجام دیتا تھا ۔ یہ جامعہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن کامل پوری رحمہ اللہ تعالٰی( تلمیذِ خاص حضرت شیخ الحدیث مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بنایا تھا اور گاؤں کے لوگ معاونت کرتے تھے ۔ اس دوران شیخ الحدیث مولانا محمد صابر رحمہ اللہ تعالیٰ اور شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ تعالیٰ دریا گاؤں میں ’’ مدرسہ حسینیہ ‘‘ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔ یہ مدرسہ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آبائی گاؤں میں قائم فرمایا تھا ۔ اس کے قیام کے وقت حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ تعالیٰ تشریف لائے اور انہوں نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔ حضرت شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس مدرسہ کا نام اپنے مُرشد و مربی اور استاد حضرت مولانا حسین علی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ’’ مدرسہ حسینیہ ‘‘رکھا ۔ حضرت مولانا حسین علی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے شاگرد و مرید شیخ الحدیث حضرت مولانا نصیرالدین غورغشتوی رحمہ اللہ تعالیٰکو خلافت سے بھی نواز رکھا تھا ۔ جب ۱۹۷۱ء میں ’’ جامعہ عربیہ اشاعت القرآن ‘‘ حضرو کا قیام عمل میں آیا تو ہم تینوں دوست اور بچپن کے ساتھی ( شیخ الحدیث مولانا محمد صابر رحمہ اللہ تعالیٰاور شیخ الحدیث مولانا عبدالسلام رحمہ اللہ تعالیٰاور راقم الحروف محمد امتیاز خان ) یہاں اکٹھے ہو گئے ، مگر اس سے پہلے ہی اس علاقہ کے علمائے کرام سے ہمارے روابط استوار ہو چکے تھے ۔ ہم نے یہاں رہ کر تمام علمائے کرام سے تعلقات مزیدمضبوط کیے ۔ اس طرح ’’ جامعہ عربیہ اشاعت القرآن ‘‘ حضرو کے مختلف پروگراموں میں علاقہ کے تمام علمائے کرام بِلا تفریق تشریف لاتے ۔ طلبائے کرام کے امتحانات کے لیے بھی علاقہ کے بڑے بڑے علمائے کرام جامعہ ھذٰا میں رونق افروز ہوتے ۔
علاقہ چھچھ جس کو بخارا سے تشبیہ دی جاتی ہے ، یہاں اپنے سینتالیس سالہ قیام کے دوران اس علاقہ میں وہ علمائے کرام دیکھے ہیں ، جن کی نظیر کم ہی ملتی ہے ۔ ان میں یہ ہستیاں قابلِ ذکر ہیں :
شیخ المشائخ استاذ العلما ولی کامل حضرت مولانا نصیرالدین غورغشتویؒ ، شیخ المحدثین حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ (بہبودی) ، استادِ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدیر مومن پوریؒ ، استادِ محترم شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالغنیؒ (جلالیہ) ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقیومؒ (جلالیہ) ، مخلصِ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانااظہار الحق مدظلہٗ العالی (جلالیہ ) ، حضرت مولانا غلام ربانیؒ ( بہبودی ) ، حضرت مولانا حافظ غلام سرورؒ (غورغشتی)، ولی کامل حضرت مولانا عبدالحکیمؒ (حیدر) ، حضرت مولانارشید احمدؒ ( ویسہ کامل پور موسیٰ ) ، حضرت مولانا عبدالحنانؒ ( تاجک ) ، مخلصِ محترم حضرت مولانا محمد ایوبؒ ( یاسین ) ، مخلصِ محترم حضرت مولانا حافظ زمرد خانؒ (سلیم خان ) ، مخلصِ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا ظہور الحق مدظلہٗ العالی(دامان) ، مخلصِ محترم حضرت مولانا سکندر خانؒ (برہ زئی) ، ولی کامل حضرت مولانا میاں خدا بخشؒ (حضرو ) ، حضرت مولانا عبدالشکورؒ (ساماں) ، حضرت مولانا مفتی محمد عمرؒ (شمس آباد) ، مخلصِ محترم حضرت مولانا مفتی محمد عثمانؒ (شمس آباد) ، حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ ( اٹک ) ، مخلصِ محترم حضرت مولاناحافظ محمدرفیع الحسینیؒ (حضرو) ، حضرت مولانا فضل الرحمنؒ (بہبودی) ، حضرت مولانا عبدالشکورؒ (بہبودی) ، مخلصِ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری سعیدالرحمنؒ (بہبودی) ، حضرت مولانا محمد ابراہیم مدظلہٗ العالی ( غورغشتی) ، حضرت مولانا قاری محمد امینؒ (سلیم خان) ، حضرت مولانا عبدالمتین مدظلہٗ العالی (نرتوپہ) ، حضرت مولانا محمود الحسن توحیدی (نرتوپہ) ، حضرت مولانا عبدالرحمن حمیدیؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمنؒ ناظم (ویسہ) ، شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل واحدؒ (ویسہ) ، حضرت مولانا عبدالدیانؒ (دامان ) ، حضرت مولانا کریم اللہ (دامان) ، سید محمد یوسف شاہ مدظلہٗ العالی (ہارون) ، حضرت مولانا عبدالرؤفؒ (شاہڈھیر) ، شیخ الحدیث مولانا ضیاء الحقؒ (لنڈی نور پور) ، حضرت مولانا منظور الحق ؒ (لنڈی نور پور) وغیرہ وغیرہ ۔ان نابغۂ روزگار ہستیوں میں شمس آباد گاؤں کے ایک نامور علمی خاندان کے ایک نامور بزرگ مولانا مفتی محمد عثمان رحمہ اللہ تعالیٰتھے ،جنہوں نے دارالعلوم دیوبند سے سندِ فراغ حاصل کی تھی اور انہیں وہاں شیخ الاسلام(مزیدشمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر5 میں پڑھیے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں