77

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر3

احوالِ واقعی:ز یرِ نظرتذکرہ میرے دادا مکرم حضر ت مفتی محمد عمر نوّ ر ا للہ مرقد ہٗ اور ان کے والدِ گرامی حضرت مولانا فضل حق محدثِ شمس آبادیؒ سے متعلق ہے ۔یہ میرے والد صا حب (حضرت مفتی عثما ن نو ر ا للہ مر قد ہ )کی قلمی کاوش ہے ۔ والد مرحوم کی وفات کے بعد جس صندوق میں اُن کا علمی سرمایہ محفوظ تھا ، میری والدہ مرحومہ نے اُس صندوق کو کوئی بیس سال تک سنبھالے رکھا ۔والدہ صاحبہ مرحومہ اس صندوق کی اس حد تک حفا ظت کر تی تھیں کہ اس کو کبھی بھی اپنے سے جدا نہ ہونے دیتی تھیں ،ا و ر جب کبھی صندوق کھو ل کر د یکھتیں تو حسرت سے فر ما یا کر تیں کہ : ’’کا ش ہما ر ے معا شی حالات ا جا زت د یں تو میں اس سا رے کا م کو شائع کرو ادو ں ‘ ‘ و ا لد صا حبؒ کی ا یک کتاب ( تذکرہ مصنفین درسِ نظامی ) تو اُن (والدہ صاحبہ ؒ ) کی ز ند گی میں شائع ہو گئی تھی ، مگر اس کے علاوہ وہ اور کوئی چیز شائع شدہ نہ دیکھ سکیں ۔ متذکرہ تالیف کا مسودہ والدہ مرحومہؒ نے اپنی زندگی میں ہی ا پنی بیٹی ( اُمۃ الحفیظ فوزیہ ) حال مقیم برطانیہ کو دے دیا تھاکہ وہ اسے شائع کر وا دے ۔ اب والدہ مرحومہؒ کی رحلت کے بعد یہ کتاب منصۂ شہود پہ جلوہ گر ہورہی ہے تو عالمِ بالا میں والدہ مرحومہؒ کی روح یقیناًمسرور ہو گی ، اور حضرت والد صاحب ؒ (حضرت مولانا مفتی محمد عثمانؒ ) کی روح مبارک بھی سر شار وشاداں ہو گی ۔سہیل احمدابنِ مفتی محمد عثمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں