174

شمس آباد( علاقہ چھچھ )کا ایک علمی خانوادہ قسط نمبر2

عرضِ مرتب:علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں حضرت مفتی محمد عثمان نور ا ﷲ مرقدہٗ کے خانوادے کو جو علمی شہرت و ناموری حاصل ہے وہ کسی صاحبِ علم سے مخفی نہیں ہے ۔ یہ خاندان کئی پشتوں سے منبر و محراب کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔ اس خاندان کو اللہ تعالیٰ نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ قلم وقرطاس کی دولت سے بھی نواز رکھا ہے ۔ حضرت مفتی محمد عثمان نوراﷲ مرقدہٗ نے دیو بند سے فراغت کے بعد تمام عمر تعلیم سے سلسلہ جوڑے رکھا ۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے تصنیفی و تالیفی سفر بھی جاری رکھا ۔ آج سے کچھ عرصہ قبل حضرت مفتی صاحبؒ کی ایک تصنیف ’’ تذکرہ مصنفین درسِ نظامی ‘‘ شائع ہوئی تو علمی حلقوں میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ اسی طرح مفتی صاحبؒ کے ایک دو کتابچے ان کی حیات میں ہی شائع ہو گئے تھے ۔ ان کے کئی مضامین ماہنامہ ’’ تعلیم القرآن ‘‘ راول پنڈی اور دوسرے رسائل میں شائع ہوئے ۔ اس کے باوجود ان کے کئی مضامین ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں میرے پاس موجود ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ ان کے مطبوعہ و غیر مطبوعہ مضامین کو اکٹھا کر کے کتابی صورت میں سامنے لایا جائے ۔اس ضمن میں ، میں نے اپنے علاقہ کے معروف محقق ‘شاعر و ادیب ‘دانشور اور ممتاز صحافی محترم( ما مو ں) راشد علی زئی کی نگرانی میں تلاش و جستجو کا سفر شروع کر رکھا ہے اور کئی مضامین اکٹھا ہو چکے ہیں ، جو جلد ہی منظر عام پر آئیں گے ۔ سرِ دست میں نے حضرت مفتی صاحبؒ کے ایک ایسے مقالہ کو سامنے لانے کافیصلہ کیا ہے ، جس سے اس خاندان کے کئی مخفی گوشے سامنے آئیں گے اور جمیعت العلما علاقہ چھچھ ، ضلع اٹک کے پہلے باقاعدہ منتخب کردہ مفتی‘ حضرت مولانا مفتی محمد عمرؒ کی بھر پورجدوجہد‘ سوانح حیات پہلی دفعہ سامنے آئے گی۔ اس مقالہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت مفتی محمد عثمانؒ نے یہ مقالہ اپنے والدِ محترم کے بارے میں بذاتِ خود تحریر کیا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ ایک مستند تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ مقالہ انتہائی خستہ و بوسیدہ حالت میں تھا۔ حضرت مفتی محمد عثمانؒ کی اہلیہ محترمہ اُ م سہیل نے اس مقالہ کو انتہائی محبت وعقیدت کے ساتھ سنبھال کر دست بردِ زمانہ سے بچائے رکھا ۔ }حضرت مفتیؒ کی اہلیہ مولاناعبدالروفؒ ( اورنگ آباد ‘ تحصیل فتح جنگ ) کی صاحبزادی ہیں۔ مولاناعبدالروفؒ (فاضلِ دیوبند)بلندپایہ محقق ومدرس اور عالم ربانی تھے ۔ ( تفصیلات کے لیے دیکھیے: ’’پٹھانوں کے شاہ ولی اﷲ‘‘ صفحہ نمبر 135،{ا ور پھر یہ مقالہ شادی میں اپنی بیٹی کو بطور جہیز دے دیا۔
اب میرے اصرار پر میری اہلیہ نے مجھے اجازت دی ہے کہ میں اِن ٹوٹے پھوٹے پرزوں کو ترتیب و تہذیب سے شائع کر کے افادۂ عام کے لیے پیش کر دوں ۔ اس ضمن میں ان کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی والدہ کی طرح اس علمی امانت کو جس طرح حفاظت سے سنبھالے رکھا وہ ان کے حوصلہ و ہمت اور اپنے والد محترم سے انتہائی محبت کا ثبوت ہے ۔ اہلیہ محترمہ نے اس مسودہ کو میرے حوالے کرتے ہوئے یہ شرط عائد کی ہے یہ مسودہ کسی طور بھی کسی کے حوالے نہ کیا جائے۔ اور کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو اس سے کوئی اقتباس ‘ حوالہ‘ کسی حصے یا پیرا گراف کو بغیر تحریری اجازت راقم التحریر کے کہیں نقل نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لیے میں نے اس مقالہ کو کتابی صورت میں شائع کرنے سے پہلے ہی اس کے جملہ حقوق قانونی طور پر اہلیہ محترمہ کے نام محفوظ کروا دیئے ہیں ۔ اب اس کی اشاعت کا اختیار صرف ’’ اسدؔ اکیڈمی ‘‘ حضرو ضلع اٹک (پاکستان ) کو ہے ۔ جہاں تک اس مقالہ کا تعلق ہے تو یہ مقالہ آج سے کم و بیش نصف صدی قبل تحریر کیا گیا تھا۔اس وقت اس مقالہ میں مندرج بیشتر اشخاص زندہ تھے ، مگر آج اُن میں سے شاید ہی کوئی شخص زندہ ہو ۔ اس لیے ترتیب کے وقت تمام علما ئے کرام کے ناموں کے ساتھ رحمہ اللہ تعالیٰ کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ جس صاحب کی تاریخ وفات معلوم ہو سکی ہے ، وہ بھی میں نے بریکٹ میں نام کے آگے درج کر دی ہے ۔ اس کے علاوہ تمام مقالہ کو نقل کرتے ہوئے نقل بمطابق اصل کا اصول پیشِ نظر رکھا گیا ہے ، تا کہ صاحبِ مضمون کا اپنا اسلوبِ تحریر قائم رہے ۔ مقالہ میں حتی الوسع کسی لفظ کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔اس لیے مقالہ اپنی اصلی حالت میں ہے ۔ یہ مقالہ جب میرے انتہائی محترم (ماموں) راشد علی زئی نے دیکھا تو انہوں نے اصرار کیا کہ اسے فوراً شائع کروایا جائے تو اُن کے اصرار کے آگے ہم دونوں میاں ، بیوی مجبور ہو گئے اور مسودہ ترتیب دے کر اشاعت کے لیے اُن کے حوالے کر دیا ہے ۔ اُن کے اس تعاون کے لیے ہم دونوں ان کے شکر گزار ہیں ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے ۔ آمین ! حضرت مولانا مفتی محمد عثمان نوّراﷲ مر قدہ جو اس علمی خا نوادہ ( مو لانا محمد منیر ؒ سے مفتی محمد عثمان ؒ تک ) میں علم و عمل کے اعتبار سے علمی حلقوں میں آخری چٹا ن تصور کئے جاتے ہیں .. . اور آج مجھے یقین ہے کہ اس مقا لہ کے منظر عا م آ نے کے بعد حضرت مفتیؒ کی روح بھی مسرور و شاداں ہو گی ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ اور اُن کے اجداد پہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور میری یہ کاوش اپنی بارگاہ میں قبول فرماکر اِسے مقبول بنائے ۔ آمین! اولڈھم ( یو کے ) ابو ظفیر خان محمد عمرتوحید ی 13 ؍ دسمبر 2013ء چیئرمین پاسبانِ صحابہؓ برطانیہ ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں