54

گاؤں نرتوپہ(نٹوپہ)تحصیل حضروقسط 2

ساکنان نرتوپہ:گاؤں کی آبادی اس وقت ایک محتاط انداز کے مطابق 50,000 ہزار ہے،نرتوپہ گاؤں میں کئی قومیں اور نسلیں آباد ہیں۔گاؤں میں سب سے پہلے پٹھان قوم تھی،بعد میں اور قوموں نے یہاں پر ڈیراڈالا۔اس وقت بھی گاؤں میں 70 فیصد لوگ پٹھان ہیں۔پٹھانوں کے علاوہ زرگر،اعوان،کشمیری،لوہار،سادات،قریشی،کمہار،مغل، تیلی وغیرہ اقوام آباد ہیں۔گاؤں سے محبت و چاہت کے متعلق کچھ لوگوں کے جذبات پر کہاوتیں آج بھی علاقہ بھر میں مشہور ہیں۔
دینی وابستگی:گاؤں کے لوگ ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہیں۔اس وقت گاؤں میں 30 مساجد ہیں جن سے دن میں پانچ مرتبہ اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی ہیں۔وادی چھچھ میں سلیم خان واصغر گاؤں کے ساتھ ساتھ گاؤں نرتوپہ بھی مذہبی لحاظ سے سرِ فہرست ہے۔ گھر گھر میں تدریس کاکام ہو رہا ہے،گاؤں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جسمیں کوئی لڑکا،لڑکی حافظ قرآن نہ ہو۔مساجد میں ہر وقت چہل پہل لگی رہتی ہے۔رمضان کے مہینے میں دن رات مساجد ایک پُر کیف اور نورانی سماں پیدا کرتی ہیں۔ہر مسجد میں صبح،عصر اور شام کے اوقات میں قرآن مجید حفظ و ناظرہ پڑھایا جاتا ہے۔
نرتوپہ گاؤں میں دینی مدارس :نر تو پہ گاؤں میں جگہ جگہ دینی مدارس قائم ہیں جن میں شب وروزعلماء کرام تشنگانِ علم کی پیاس بجھانے میں مصروف رہتے ہیں۔گاؤں کے مدارس اور انکی معلومات مندرجہ ذیل ہے۔(1) جامع قاسمیہ انوارالقرآن:جامعہ قاسمیہ انوار القرآن ایک خالص دینی ادارہ ہے جس میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اسمیں کئی شعبے ہیں مثلاً شعبہ کتب (درس نظامی) شعبہ حفظ اور شعبہ قرآت (تجوید)اس میں تقریباً 500 کے قریب طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اُولٰی سے لیکرسابعہ یعنی سالِ اول سے لیکر سال ہفتم تک درسِ نظامی کا انتظام بھی موجود ہے۔یہ مدرسہ نرتوپہ گاؤں کاسب سے بڑا مدرسہ ہے جسکے مہتم مولانا عبدالخالق صاحب ہیں۔یہ محلہ سید خیل میں واقع ہے۔اس عظیم الشان مدرسے کا افتتاح حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب نے اپنے دستِ مبارک سے کیا تھا۔اس مدرسہ میں پورے پاکستان سے طلباء دینی علم حاصل کرنے آتے ہیں،جن کے لیے قیام و طعام کا اچھا بندوبست ہے۔مدرسہ ہذا میں ہزاروں طلباء حافظ،قاری اور عالم بن کر پورے ملک میں درس و تدریس کا کام کر رہے ہیں۔اس وقت مدرسہ قاسمیہ انوار القرآن میں 200 کے قریب طلباء رہائش پذیر ہیں جن کے لیے 16 اساتذہ کرام دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں مدرسہ ہذا میں شعبہ حفظ کے لیے 10 اساتذہ کرام اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ ایک شعبہ تجوید و قرآت سبع کا ہے جس کے صدرمدرس حضرت مولانا میاں نظام الدین صاحب مدظلہ اور قاری حبیب الرحمان صاحب مدظلہ بچوں کوتجوید سکھاتے ہیں۔سال میں درجنوں کی تعداد میں طلباء درجہ سبع سے فارغ ہوتے ہیں۔جامع ہذا میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے جو کہ آٹھویں کلاس تک ہے۔مدرسہ میں رہائش پذیر تمام طلباء کے تمام اخراجات حتٰی کہ بیماری تک کا خرچہ جامع ہذا برداشت کرتا ہے۔جامعہ قاسمیہ جس طرح بچوں کے لیے دین کو فروغ دے رہا ہے اس طرز کا ایک مدرسہ جامعہ جویریہ للبنات کی تعمیر جاری ہے ۔انشاء اللہ جلد ہی اس للبنات مدرسہ میں لڑکیوں کے لیے اسلامی تعلیم شروع ہو جا ئے گی۔(2 ) مدرسہ تعلیم القرآن:یہ مدرسہ جامع قاسمیہ انوار القرآن کی ایک شاخ ہے جس میں قرآن مجید کی تجوید پڑھائی جاتی ہے۔مدرسہ ہذا میں تجوید کے ساتھ ساتھ حفظ وناظرہ کی کلاسیں بھی لگتی ہیں ۔یہ مدرسہ تجویدکے لحاظ سے ملک بھر کے اچھے اور نامور مدارس کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔مدرسہ ہذا کے مہتم قاری حبیب الرحمان صاحب (غور غشتی)ہیں۔(3 ) جامع جابر بن عبداللہ :یہ مدرسہ محلہ وردگ میں بہبودی روڈ پر واقع ہے جس کے مہتم حضرت مولانا عبدالمتین صاحب ہیں۔اس مدرسے کا شمار بھی پاکستان کے اچھے مدارس میں ہوتا ہے۔اس مدرسے میں پورے چھچھ سے طالبعلم پڑھنے آتے ہیں اور ہر سال کئی طلباء عالم بن کر نکلتے ہیں۔(4 ) ) اقراء ورضتہ الاسلام: یہ مدرسہ نرتوپہ گاؤں کے محلہ ولی داد بانڈہ میں واقع ہے جس میں لڑکیوں کو اسلامی تعلیم سے روشناس کروایا جاتا ہے۔اس مدرسہ میں لڑکیوں کو ناظرہ ،حفظ،تجوید اور عالمہ کا کورس کروایا جاتا ہے۔مدرسہ ہذا میں اب تک پندرہ طالبات عالمہ بن چکی ہیں۔یہ مدرسہ حافظ بہرام استاد جی کی صدارت ایک منظم اور موثر طریقے سے چل رہا ہے۔
گاؤں نرتوپہ کی مساجد:گاؤں نرتوپہ میں تقریباً تیس مساجد ہیں جن میں اکثر کے نام صحابہ کرامؓ کے ناموں سے موسوم ہیں۔کچھ مساجد کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔جامع مسجد سیدنا امیر معاویہؓ ،جامع مسجد اسامہ بن زیدؓ ،جامع مسجد سیدنا عثمان غنیؓ،جامع مسجد سیدنا ابو بکر صدیقؓ،جامع مسجد سیدنا حذیفہ،جامع مسجد سیدنا عائشہ، جامع مسجد مکی،جامع مسجد مدنی،جامع مسجد سیدنا فاروقِ اعظمؓ،جامع مسجد خالد بن ولیدؓ،جامع مسجد عبداللہ بن عباسؓ،جامع مسجد حنفیہ،جامع مسجد اکبری،جامع مسجد توحیدیہ،جامع مسجد مغربی اور مسجدو مدرسہ فیض القرآن وغیرہ ہیں۔اس آرٹیکل کا کریڈٹ ملک یاسر خان(ولیداد بانڈہ)، جہانزیب خان (نسوزئی)،یاسر امین حضروی اور اظہر محمود کو جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں