50

گاؤں نرتوپہ(نٹوپہ)تحصیل حضروقسط 3

علماء و صلحا کی سر زمین:نرتوپہ کی سر زمین کو کئی دینی عظیم الشان شخصیات پر ہمیشہ ناز رہے گا۔ شروع دن سے ہی اس خطہ میں علماء صلحاء پیدا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کی برکت سے یہ خطہ قوتِ ایمان سے لبریز ہے۔ان میں حضرت مولانا دوست محمد خان ؒ المعروف دوستان بابا(نسوزئی)معروف شخصیت تھیں۔انہوں نے دینی علم دھلی (ہندوستان)سے حاصل کیا تھا،نے دین کا کام اپنے محلہ اور گاؤں کی سطح پر کیا۔انکے بعد حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ المعروف ابراہیم داجی (نسوزئی) بھی ایک بہت بڑے عالم گزرےہیں۔ابراہیم داجیؒ نے ایک دفعہ ایک عیسائی سے مناظرہ بھی کیا،جسمیں عیسائی کو شکست فاش ہوئی۔ابراہیم داجی گاؤں پنجوانہ کے رقبہ میں مدفون ہیں۔ اسکے بعد حضرت مولانا یعقوب خان صاحب ؒ عرف مُلاّں جی بھی ایک جید عالم تھے۔جبکہ مولانا دوست خان (نسوزئی)،مولانا بازیط صاحب،مولانا امین صاحب وغیرہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے نرتوپہ کی سر زمین کو توحید و رسالت کی روشنی سے جگمگایا۔نرتوپہ میں کئی بزرگانِ دین کی قبریں موجود ہیں،ان میں مولوی بابا(مولی بابا)کا مزار مغربی بانڈہ میں ہے۔
ذریعہ معاش:نرتوپہ گاؤں کے لوگوں کا بڑا پیشہ کھیتی باڑی ہے یہاں کے کسان ہر قسم کی فصلیں کاشت کرتے ہیں۔بارانی زمینوں میں گندم،چنا،سرسوں،مونگ پھلی،مکئی جبکہ چائی(کنوؤں کی زمین)میں ہر قسم کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔کسان ان سبزیوں کو حضرو کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں کی منڈیوں کو لے جاتے ہیں۔ گاؤں نرتوپہ کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کراچی شہر میں رہائش پذیر ہے جو زیادہ تر بھینس کالونی میں دودھ اور دودھ کی بنی چیزوں کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ کچا کھوہ(ملتان) اور خانیوال میں بھی نرتوپہ گاؤں کے کئی خاندان آباد ہیں۔علاوہ ازیں باشندگانِ نرتوپہ کی ایک اچھی خاصی تعداد ملک سے باہر بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔
تعلیم و تربیت:گاؤں کے کئی لوگ پولیس،تعلیم،فوج اور میڈیکل کے شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اسوقت گاؤں میں لڑکوں کے لیے ایک ہائی سکول ہے جو اتنے بڑے گاؤں یعنی 50 ہزار آبادی والے گاؤں کے لیے ناکافی ہے۔لڑکیوں کے لیے ایک مڈل سکول ہے جو کہ لڑکوں کی طرح تعداد کی وجہ سے نا کافی ہے۔علاوہ ازیں گاؤں ہذا میں دیگر علاقہ چھچھ کے دیہاتوں کی طرح شرح خواندگی انتہائی حد تک کم جو تقریباً30 فیصد بنتی ہے۔گاؤں کے اکثر نوجوان میڑک کے بعد تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔گاؤں میں چند لوگ ایسے ہیں جنہوں نے گاؤں میں تعلیم عام کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ ماسٹر جاوید (M.A ہسڑی)، ماسٹر عبدالرحمان (B.A. )، ڈاکٹر ہاشم (M.B.B.S. )، ماسٹر سلیمان(M.A. )، راشد محمود ( M.Aانگلش)، ماسٹر ادریس (M.A. )، ملک یاسر(M.A. )، ڈاکٹر نوید (M.B.B.S. )وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
گاؤں نرتوپہ کے اہم مقامات:(01 ) شھنشائی راستہ: تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ راستہ شیر شاہ سوری نے بنوایا تھاجو کہ کابل سے دہلی تک تھا۔یہ راستہ گاؤں کے جنوب میں واقع ہے جہاں سے شیرشاہ سوری گزرتا تھا۔اس راستے کے آثار اب بھی واضع نظر آتے ہیں۔(02 ) چھل غازی باباؒ :گاؤں کے جنوب میں ایک بلند ٹیلے پر ایک مزار واقع ہے جسے مقامی زبان میں چہل غازی باباؒ کا مزار کہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جب شاہ اسماعیل شہید کفار سے لڑ رہے تھے تو اس جگہ پر انکے چالیس فوجی (مجاہدین)شہید ہوئے جن کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا گیا اور بعد ازاں یہی قبر چہل غازی باباؒ کے نام سے موسوم ہوئی۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ ملک یاسر خان(ولیداد بانڈہ)، جہانزیب خان (نسوزئی)،یاسر امین حضروی اور اظہر محمود کو جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں