165

میاں اختر علی صاحب کاانٹرویو

میاں اختر علی چھچھ کی خوبصورت دھرتی کے وہ سپوت ہیں ۔جن پر نہ صر ف ان کا گھرانہ ، خاندان بلکہ ہر فرد فخر کرسکتاہے۔ آپ کا تعلق حضرو کے ایک معزز اور معروف مغل گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد میاں کرم الٰہی کاشمار نہ صر ف چھچھ بلکہ ضلع اٹک کے بزرگ سیاست دانوں اور تحریک پاکستان کے اہم سرگرم کارکنوں میں کیاجاتا تھا۔ جنہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لینے کے علاوہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ آپ کے والد میاں کرم الٰہی(مرحوم) مسلم لیگ حضرو کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ میاں اختر علی پولیس میں SPکے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ کی تمام سروس ایمانداری اور فرض شناسی سے عبارت ہے۔ شرافت،دیانت اور میرٹ آپ کا تمغہ امتیاز رہا ہے۔مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے والد صاحب عمر خان کو میاں اختر علی اپنے بہترین بچپن کے دوستوں میں گردانتے ہیں۔ بقول میاں اختر علی میرے والد کے ساتھ ان کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ میاں اختر علی کے دو صاحبزادے ہیں۔ بڑے کانام بخت یار جبکہ چھوٹے کاایاز ہے۔ آپ کے بڑے بھائی میاں محمد سلیم بلدیہ حضرو کے وائیس چیئرمین بھی منتخب ہوئے تھے ۔ آپ کے بھتیجے میاں مظہر نے کرکٹ میں چھچھ کا نام ملک کے کئی اضلاع میں روشن کیا ۔ میاں اختر علی کانام چھچھ کے لوگوں کیلئے شرافت اور فرض شناسی کی علامت ہے ۔راقم پر میاں صاحب کی خصوصی شفقت رہتی ہے۔ ’’فرزندانِ چھچھ‘‘کیلئے سخت بیماری کے باوجود زندگی کا پہلاانٹرویو ریکارڈ کروانایقیناًاس ناچیز کے ساتھ ان کی شفقت اور محبت کا مظہر ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں اختر علی کو شفا کاملہ عطا فرمائے۔ یقیناًیہ چھچھ کے قابل فخر فرزند ہیں ۔
س:نام /ولد یت ج:میاں اختر علی/ میاں کرم الٰہی۔
س:تاریخ پیدائش/جائے پیدائش ج:6جون1934 ؁ء/حضرو۔
س:قوم/قبیلہ ج:مغل
س:تعلیمی قابلیت ج:B.Aگریجویٹ
س:بچپن/لڑکپن کے مشاغل ج:ہاکی،فٹ بال، تمام اِ ن ڈور سپورٹس میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیتاتھا۔
س:پسندیدہ کھیل /کھلاڑی ج:ہاکی/نصیر بُندا، بہت غضب کا پلیئر تھا ۔شیخ شفیق (اٹک)، حسن سردار بھی پسند تھا ۔
س:پروفیشن ج:پولیس/Police
س:پروفیشنل زندگی کاآغاز ج:1957-58 ؁ء ون یونٹ رجمنٹ،ASA ASI
س:پروفیشنل اچیومنٹس ج:بحیثیتSPسپریڈنٹ آف پولیس راولپنڈی سے ریٹائرڈ ہوا۔ پوری زندگی اسپیشل سروس کے دوران ہمیشہ کوشش کی کہ کوئی ایسافعل مجھ سے سرزد نہ ہو ۔جس سے میرااللہ اور رسولﷺ ناراض ہو ں۔
س:پروفیشنل خدمات ج:نقد انعامات ملے، ایک مرتبہ2لاکھ روپے خصوصی انعام سے بھی نوازا گیا۔ میری سب سے بڑی اچیومنٹ میرے سینئرز کا مجھ پر اعتماد جونیئرز کا عزت دینااور دوست واحباب کا پیار ہے ۔ تمام سروس کے دوران بحیثیت پولیس آفیسر جوڈیوٹی سرانجام دی ۔وہ میرا فرض تھا۔ کسی پر کوئی احسان نہ تھا۔ الحمدللہ فرض کی ادائیگی میں خالقِ ارض وسما نے ہر موقع پر سرخرو فرمایا۔گجرات، اٹک، لاہور، راولپنڈی ودیگر اضلاع میں پروفیشنل فرائض ادا کیے۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب، ناروے اور عراق بھی گیا۔
س:پسندیدہ عالم دین/سیاستدان/شاعر/صحافی(لوکل انٹرنیشنل) ج:امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ / قائد اعظم محمد علی جناحؒ /مرزا غالب، علامہ اقبال ؒ ، مولانا محمدعلی جوہر، مولانا ظفر علی خان/صحافت سے دلچسپی نہیں ۔
س:پسندیدہ کتاب /مصنف ج: صلاح الدی ایوبی پر لکھی گئی کتاب بہت پسند ہے، مصنف کانام یاد نہیں ۔
س:پسندیدہ کلاس فیلو/استاد ج:کلاس فیلو سب ہی پیار ے لگتے تھے۔ اِس لیے بھی کہ یہ تمام لوگ اِس ناچیز کو بھی پسند کرتے تھے ۔جہاں تک اساتذہ کرام کا تعلق ہے تو اسد اللہ خان قریشی صاحب(ٹیچر)، پروفیسر محمد عثمان صاحب، ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب ۔
س:زندگی کا خوشگور ترین دن ج:جودن اللہ تعالیٰ کے احکامات میں گذر جائے وہی حقیقی خوشگوار دن ہے ۔
س:زندگی کا ناخوشگور (غمگین) ترین دن ج:جس دن میری پیاری امی جان کاانتقال ہوا۔ اُن کی طبیعت جب بہت خراب ہوئی تو مجھے اطلاع ملی میں اس وقت سیشن کور ٹ گجرات میں تھا۔ اُڑتا ہوا گاڑی پر پہنچا ۔لیکن وہ خالقِ حقیقی کے پاس جاچکی تھیں۔
س:زندگی کا یادگار ترین لمحہ یا واقعہ ج:سروس کے دوران اتنے واقعات پیش آئے کہ بتا نہیں سکتا۔ درجنوں مرتبہ موت کواپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بے شمار خطرناک جرائم پیشہ عناصر سے سامناہوا۔ ایک مرتبہ مصر کا شہری ابراہیم علوی AIR PORTسے جہاز اغوا کرنے کی کوشش میں تھا۔ اللہ نے میرے ذریعے اُس کا یہ منصوبہ ناکام بنایا۔ اُس پر مجھے بہت زیادہ شاباش ملی۔
س:شدید ترین خواہش
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
س:پسندیدہ رنگ /خوشبو/لباس ج:سفیدWhite/گلاب/شلوار قمیض ۔
س:پسند یدہ سیاسی پارٹی ج:سیاست یا سیاست دانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ۔
س:پسندیدہ ٹی وی چینل ج:کوئی نہیں ۔
س:آپ کی نظر میں چھچھ کے اہم ترین مسائل:
ج: سچ آکھاں تے پھانبڑ بلد ے نیں
جھوٹ آکھاں تے دل جلدے نیں
س:آپ کی نظر میں سب سے بڑی نیکی ج:سب سے بڑی نیکی مخلوقِ خدا کی جائز مدد کرنا ہے۔
س:آپ کی نظرمیں سب سے بڑا گناہ ج:گناہ تو گناہ ہوتا ہے۔ چھوٹا یا بڑا؟
س:کس بات پر سب سے زیادہ غصہ آتاہے ج:جھوٹ سے سخت نفرت ہے ۔
س :کس عمل سے دلی سکون ملتاہے ج:جب اللہ کی توفیق سے کسی کی مدد کرسکوں ۔
س:کس چیزیا سوچ سے زیادہ خوف آتا ہے ج:اپنے اعمال سے خوفزدہ رہتاہوں ۔
س:اگر شیطان سے ملاقات ہو جائے تو ج:اس سے اللہ کی پناہ چاہتاہوں ۔
س: آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیاجائے تو سب سے پہلاکام کیا کریں گے ج:ہمارے ملک میں عدل وانصاف کا نظام سراسر غلط ہے۔ عدل وانصاف کواسلامی ڈھانچے میں لاکر ہر آدمی تک اِس کی فراہمی کو یقینی بنانا میرااولین فریضہ ہوگا۔
س:اہلیان چھچھ کے لیے آپ کا پیغام ج:پیغام تو نہیں البتہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر سے برائیوں کو ختم کرکے نیکیوں کو پیدا فرمائے۔ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے اور ایک دوسرے کے کام آنے کی توفیق بخشے ۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں