65

ابا سین (دریائے سندھ) قسط نمبر 1

دریائے سندھ جسے مقامی زبا ن ابا سین دریا ؤں کا باپ کہاجاتاہے کو ہستان اور ہزارہ کی پہا ڑی منزلیں طے کر تا ہوا وا دی چھچھ میں ایک قوس کی شکل میں بہتا ہوا اٹک کی پہا ڑیوں میں نظروں سے اوجھل ہو جا تا ہے۔ ابا سین نہ صرف ایک دریا کا نام ہے بلکہ یہ دنیا کی ایک عظیم تہذیب ، ایک عظیم ملک بلکہ پو رے بر صغیر کا نام ہے۔بر صغیر پا ک و ہند میں چھوٹے بڑے دریا ؤن کی کمی نہیں لیکن جو اہمیت اور تقدس ابا سین کو حا صل ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی ۔ جس طرح دریائے نیل کی مصری تہذیب، فرات کی سمیر ی تہذیب آشکارا ہوئیں ، ابا سین بھی اپنے ہمعصروں سے کسی صورت میں بھی پیچھے نہیں اور وادی سندھ کی تہذیب البتہ ان سے دوگام آگے ہے۔ جو تیزی و تندی ابا سین اپنے اندر رکھتاہے نہ دجلہ و فرات میں ہے اور نہ ہی دریائے نیل میں یہی وجہ ہے کہ اس نے ابا سین (دریا ؤں کا با پ ) کا اعزاز حا صل کیا ہے۔ابا سین مختلف علا قوں میں مختلف نا موں سے پکا را جا تا ہے اسے دریا ئے سند ھ بھی کہا جا تا ہے۔ مہرا ن اور نیلا ب بھی انتہا ئی شما ل میں اسے کنکا ر اور کیلاس بھی کہا جا تاہے۔ بعض لو گ اسے تبت کا دریا کہتے ہیں تبت میں اسے شیر ببر کے نا م سے یاد کیا جا تا ہے بیرن ہیگل کے بیا ن کے مطا بق اسے با لا ئی علا قہ میں چُو ۔ سُیچواور لِنگتی بھی کہتے ہیں۔ یو نا نیوں نے اسے سندوس کہ کر پکا را جو بعد ازاں لا طینی تلفظ سے سندس اور انگر یزی میں انڈس INDUS بن گیا ۔ آ ریاؤں نے اس کی تندوتیز موجوں کی وجہ سے اسے سند ھو کا نام دیا تھا جس کے معنی سر کش گھوڑے کے ہیں رگ وید جو ایک قدم کتا ب ہے اس میں اسے زرفشاں کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ یہ اپنے سا تھ پہا ڑی دروں سے سونے کے ذرات بھی لا تا ہے۔جنا ب کو ثر صا حب غور یا خیل نے اپنی کتاب ” زبا نوں کی تقسیم ” دژ بو ویشنہ میں لفظ ابا سین پر بحث کر تے ہو ئے لکھا ہے کہ جب آ ریہ قبا ئل یو رپ میں دا خل ہو ئے تو انہوں نے پا نی کے بڑے ذخیرہ کے لیے وسین یا اوشن OCIEN لفظ استعما ل کر نا شر وع کیا
1990 میں غا زی برو تھہ سکیم کا تذ کر ہ بھی بڑے زور وشور سے ہو رہا تھا اس سکیم کے تحت تر بیلا ڈیم سے نہر نکا ل کر وادی چھچھ کے مشرقی حصہ اور کا مرا کمپلیکس کے پا س سے گزرتے ہو ئے گڑیالہ کے مقام پر دوبا رہ دریا ئے سندھ میں ڈالی جا ئے گی اس مقام پربجلی کے جنریڑ نصب کر کے مزید بجلی پیدا کی جا ئے گی۔ امسال جو لا ئی 2003 بجلی میسر آ جا ئیگی ۔ مگا ستھین کا کہنا ہے کہ ایشیا اور یو رپ میں کو ئی بھی دریا اس دریا کا ہم پلہ نہیں ھو سکتا۔ البتہ اس کا ایک رقیب دریا گنگا ہے لیکن ابا سین نے گنگا سے بھی سبقت لے لی کیونکہ اس کے سا تھ ایک بہت بڑی سر زمین سندھ کا نام وا بستہ ہے جبکہ گنگا بچارا اس خو بی سے محروم ہے۔ وادی چھچھ میں بعض مقا ما ت پر جزیرے بنا تا ہو ا ایک میل کی چوڑائی اختیا ر کر لیتا ہے۔ اٹک کے مقام پر دریا ئے کا بل سے بغل گیر ہو کہ کچھ سکڑ جا تا ہے اٹک سے نیچے با نیلاب کے مقام پر دریا ئے کا بل سے بغل گیر ہو کر کچھ سکٹر جا تا ہے اٹک سے نیچے با غ نیلا ب کے مقام پر ایک بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس کے بعد سکڑکر ایک مقام پر اس کی چوڑا ئی صرف سا ٹھ فٹ رہ جا تی ہے۔ابا سین یا وادی سندھ کی تہذیب جو اپنے دور کی نہا یت تر قی یا فتہ تہذیب تھی پا نچ لا کھ مر بع میل کے علا قہ میں پھیلی ہو ئی تھی، ہڑپہ اور موہنجو ڈرو اس کے صدر مقام تھے۔ یہ سلطنت بحیرہ عرب کے سا حل سے شما ل کی جا نب سا ت سو میل ؒ کی لمبا ئی تک پھیلی ہو ئی تھی ، پا کستا ن کو اپنے اس تا ریخی اور تہذیبی ورثہ پر فخر حا صل ہے جو اسے ابا سین کی وجہ سے میسر آیا۔
(ازقلم: سکندر خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں