129

ابا سین (دریائے سندھ) قسط نمبر 2

پرا نے زما نے میں جبکہ ذرائع آمدورفت مفقود تھے ۔اباسین ہی کے ذریعے تجارتی سامان شمالی علاقوں سے جنوب کی طرف بھیجا جایا کرتا تھا بعض جگہوں میں آج بھی اس سے استفادہ کیا جاتا ہے لیکن سب سے اہم سکیم صدر محمد ایوب خان کے دور حکومت میں پیش کی گئی تھی جس کے تحت اباسین کو جہاز رانی کے اس قابل بنانا تھا کہ پشاور سے لے کر کراچی تک ذرائع آمدو رفت ہو غالباً اس سلسلہ میں حکومت کی طر ف سے سروے بھی ہو چکا تھا لیکن بعدمیں برسرا اقتدار آنے والے حکومتوں نے اس طرف توجہ نہ دی۔ چھے بیراجوں سمیت دریائے سندھ پر اب تک کل گیارہ پل باندھے گئے ھیں۔اباسین کی ادبی حیثیت جو اس نے مختلف زبانوں پر اثر انداز کی ہے خصوصا! پشتو جیسی تندی و تیزی اور رزمیہ شاعری میں اس نے مزید ا ضافہ کیا ہے ۔ پشتو ٹپہ میں اباسین کا تذکرہ بے تحاشا انداز میں جذبات کی ترجمانی کیلئے کیا گیا ہے جبکہ مشہور صوفی بزرگ حضرت عبدالرحمن بابا ؒ نے اس دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ اباسین کی رفتار سے تشبہیہ دے کر کیا ہے ترجمہ: جیسے اباسین کاپانی تیزی سے نیچے کی طرف لپک رہا ہے ویسے بالکل عمر تیزی سے گز رہی ہے۔ دریائے اٹک اور کابل کا سنگم کے مشرقی جانب جلالہ اور کمالہ دو خطرناک چٹانیں ہیں۔جناب محمد پرویش شاہین نے اپنی پشتو کتاب د پنبتون خوا کلونہ میں اباسین کے بارے میں تفصیلاً ذکر کیا ہے ملاحوں کے تجربہ کے مطابق اٹک قلعہ سے نیلاب قصبہ تک سات خطرناک مقام ہیں بعض انہیں سات پہاڑیاں سات سہیلیاں یاسات سوکنیں کہتے ہیں اباسین سے اگر ایک طرف بے شمار فائدے اور سہولتیں وابستہ ہیں تو دوسری طرف گاہے گاہےقدرت خدادندی کی طرف سے تباہی وبربادی بھی لاتا ہے جو کہ سیلاب کی صورت میں ہوتی ہے۔ اکثر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی بڑی بڑی بستیاں دریائے سندھ میں شدید طغیانی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں تقریباً ایسے ستر قدیم شہر وں کی نشاندہی ہو چکی ہے جو دریائے سندھ کی ایک ہزار میل لمبی اور تین صد میل چوڑی پٹی میںآباد تھے۔ وادیء چھچھ کے باسیوں میں دو سیلابوں کا تذکرہ بڑے بوڑھے بڑے زور و شور سے کرتے ہیں جس سے یہ علاقہ بہت مثاثر ہوا تھا یہ سیلاب اباسین میں 1841 اور 1927 میں بڑی شدت سے آئے تھے اور کافی تباہی پھیلا گئے تھے ۔ قلعہ اٹک کے پاس دریا کی ا وسط گہرائی 42 فٹ ہے۔ راولپنڈی ضلع کے گزٹئیر94 -1893 کے مطابق سردیوں میں قلعہ اٹک کے قریب دریا کی گہرائی 17 فٹ اور گرمیوں میں 50 فٹ رہتی ہے ۔
(ازقلم: سکندر خان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں