46

گاؤں کالو کلاں تحصیل حضروقسط 2

وسائل اور مسائل:کاشتکار،سکول،ہنر،شفاخانہ حیوانات ،ملازمت اور اپنی مدد آپ کے تحت لوگ گاؤں کے چھوٹے موٹے مسائل حل کر لیتے ہیں۔گاؤں کے چند مسائل میں ایک مسئلہ لوگوں کے لیے محکمہ صحت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے زیادہ تر لوگ اَن کوالیفائیڈ پریکٹیشنز سے علاج کرواتے ہیں جبکہ صفائی کے لیے کوئی خاص انتظام بھی موجود نہیں ہے۔لوگ اپنی مدد آپ کے تحت صفائی ستھرائی کا کام سر انجام دیتے ہیں۔گاؤں کے نوجوانوں کا رُحجان زیادہ تر بیرون ممالک میں جا کر ملازمت کا حصول ہے جس کی بدولت میٹرک یاانڈر میٹرک ہی نوجوان تعلیم کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں،جبکہ کچھ نوجوان اپنے کاروبار کو ترجیح دیتے ہیں ۔گاؤں میں نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان بھی ناپید ہیں جو کہ صحت مندمعاشرے کیلئے بہت ضروری ہے۔
تعلیم و تعلم: گاؤں میں گورنمنٹ کی طرف سے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ہائی سکولز ہیں جبکہ 08 مسجدوں کے علاوہ 03 مدارس دینیہ موجود ہیں۔گاؤں کے بچے اور بچیاں ان مدارس،مساجد اور گھروں میں دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔کچھ لڑکے فنی تعلیم حاصل کرنے اٹک شہر،واہ کینٹ اور راولپنڈی وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔پروفیسر وارث خان صاحب نے تعلیم کے شعبے میں اپنے گاؤں و علاقہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔لڑکوں کیلئے انٹر کالج کے قیام کے لیے انکی خدمات قابلِ ستائش ہیں بعد ازاں انہوں نے ہمارے علاقے کے سیاسی رہنماؤں (ملک اسلم اور خانزادہ تاج محمد صاحب مرحوم)کی مدد سے حضرو کالج بنوایا۔گاؤں کالو کلاں میں پہلے مڈل سکول اور پھر گرلز ہائی سکول کا قیام بھی انہی کی کوششوں کی بدولت ہوا۔بچیوں میں عصری تعلیم کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں زوجہ ماسٹر محمد صادق کا کلیدی کردار ہے۔گاؤں کی بچیوں میں عصری و دینی تعلیم کا فروغ پا رہا ہے جو کہ مستقبل میں ایک پڑھے لکھے معاشرے کو جنم دیتا ہے۔
مذہبی رُحجان:کالو کلاں کے لوگ مذہب اسلام سے کافی لگاؤ رکھتے ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔سن1950 کی دہائی میں مولوی فضل الٰہی’’نکہ مولی‘‘کی دینی خدمات گاؤں کے لوگوں کے لیے قابلِ ستائش ہیں۔اُنکے بعد مولوی عبدالقیوم ؒ صاحب نے بھی اپنی دینی خدمات علاقہ بھر کے لیے پیش کیں۔استاذالحفظاء حافظ مولا بخش ؒ کی درسِ قرآن کے حوالے سے دینی خدمات بھی نا قابلِ فراموش ہیں،آجکل یہ کام اُنکے صاحبزادے سر انجام دے رہے ہیں۔گاؤں ہذا میں بہت سے اولیاء اللہ گزرے ہیں جن میں محمد حسین شاہ’’نانگا باباؒ ‘‘ ،سید غلام شاہؒ ،سید قابل حسین شاہؒ اور مولوی فضل احمد ’’مولی بابا‘‘بہت مشہور ہیں۔نانگا باباؒ کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو ایک بہت ہی بڑی آفت سے چھٹکارا دلوایا تھا۔
کھیل و مشاغل:کھیلوں کے حوالے سے گاؤں کالو کلاں میں لڑکے بالے کئی علاقائی کھیل شوق سے کھیلتے ہیں۔ان میں کبڈی،کشتی،بیلوں کی دوڑ،گلی ڈنڈا،لٹو پھیرنا اور حجروں میں عشاء کے بعد بیٹھ کر گپ شپ لگانا اہم مشاغل ہیں۔علاقہ بھر میں کالو کلاں نے کبڈی و کُشتی کے کئی نامور کھلاڑی پیدا کیے ہیں جن میں ملک سکندر اور ملک آزاد کے نام قابلِ ذکر ہیں۔بیلوں کی دوڑ کے مقابلوں میں بھی قریہ ہذا کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب نئی نسل کے شوق بدل گئے ہیں اور اب دورِجدید کے مطابق گاؤں کے لڑکے کرکٹ،فٹبال،والی بال اور کمپیوٹر گیمز کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ محمد عمران آف کالو کلاں، سید مظہر حسین آف شاہ پور،یاسر امین حضروی اور اظہر محمود کو جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں