41

گاؤں کالو کلاں تحصیل حضروقسط 1

محل وقوع:کالو کلاں گاؤں وادی چھچھ کا ایک حسین و زرخیز اور خوبصورت گاؤں ہے۔یہ گاؤں ضلع اٹک سے تقریباً 25 کلو میٹر شمال کی جانب واقع ہے جبکہ تحصیل حضرو سے مغرب کی سمت تقریباً02 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔کالو کلاں یونین کونسل حمید کا دوسرا بڑا گاؤں ہے۔کالو کلاں کے شمال میں حمید گاؤں کا رقبہ،شمال مغرب میں موضع ویسہ اور گاؤں ملہو کا رقبہ جبکہ مغرب میں ساماں گاؤں واقع ہے۔گاؤں کی جنوب کی سمت گاؤں دریا اور مشرق یعنی حضرو کی سمت میں گاؤں پیر زئی وقوع پذیر ہیں۔وادی چھچھ کا معروف روڈ گوندل سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔
تاریخی پسِ منظر:باشندگانِ دیہہ کے بیانات کے مطابق کافی عرصہ ہوا ایک کالُو نامی شخص نے یہ گاؤں گجرات کے علاقے سے آکر آباد کیا۔سن1862 کے بندوبست کے ریکارڈ کے مطابق یہ گاؤں ویران ہوا،بعد ازاں منیر باباؒ نے اسے نئے سرے سے آباد کیا۔کچھ لوگوں کا قیاس ہے کہ پہلے یہ گاؤں ایک ٹیلے پر آباد تھاجسے مقامی زبان میں’’رتی ڈھیر‘‘کہتے تھے بعد ازاں آبادی بڑھتی گئی اور یہ پھیلتا رہا۔تحصیل حضرو میں کالو کلاں جیسے نام سے موسوم ایک گاؤں کالو خورد بھی واقع ہے جبکہ اس سے ملتا جلتا ایک گاؤں (کالو خان)ضلع صوابی ،صوبہ سرحد میں بھی واقع ہے۔
گاؤں کی آبادی و معلومات رقبہ:کالو کلاں کی آبادی تقریباً10400 نفوس اور 1400 گھرانوں پر مشتمل ہے۔ان میں گجر،اعوان،پٹھان،ملیار،سید،بھٹی،ترکھان،جولاہااور پیشہ ور خاندان وغیرہ شامل ہیں۔گاؤں کے لوگ بہت محنتی ،جفاکش،نڈر اور ایماندار ہیں،مردوں اور عورتوں کا شرح تناسب 50% ہے۔گھرانے پختہ اور صاف ستھرے ہیں۔گلیاں کُوچے و سڑکیں اور سیوریج نظام تسلی بخش ہے ،نکاسِی آب کا نظام ایک مربوط طریقے سے چل رہا ہے۔گاؤں کا کل رقبہ تقریباً 1200 ایکڑ ہے۔کالو کلاں کا دیگر مواضعات سے رابطہ کے لیے پکی سڑکیں موجود ہیں جو کہ گاؤں کو چاروں اطراف سے ملاتی ہیں۔
ذریعہ معاش:گاؤں کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی اکثریت وادی چھچھ کے دیگر دیہاتوں کی طرح کھتی باڑی سے منسلک ہیں۔وادی چھچھ کے اندر کالو کلاں کا نام آتے ہی ذہن میں مولی،گاجر اور دیگر سبزیوں کا تصور آجاتا ہے۔گاؤں کے کاشتکار اپنی فیلڈ میں بہت ہی پروفیشنل ہیں۔گاؤں میں سبزیاں بڑے پیمانے پر اور جدید طریقہ پر کاشت اُگائی جاتی ہیں۔آبپاشی کنوؤں اور ٹیوب ویل کے ذریعے برقی موٹر یا پھر ڈیزل انجن سے کی جاتی ہے۔کالو کلاں کی سبزیاں اپنی تازگی اور ذائقے کی بدولت پورے صوبہ پنجاب میں مشہور ہیں۔اسلام آباد ،پشاور ،واہ کینٹ،ہری پور،ابیٹ آباد اور لاہور کیلئے سبزیاں یہاں سے ڈائریکٹ سپلائی ہوتی ہیں اور یہاں کا ہرا دھنیا روزانہ کئی متحدہ عرب امارات اور یورپین ممالک کو بذریعہ ہوائی جہاز ترسیل کیا جاتا ہے۔کھتیوں سے سبزی منڈیوں تک کی ترسیل آسان ہے جس کی بدولت گاؤں کے لوگوں کو ایک اچھا پلیٹ فارم میسر ہو رہا ہے۔ وادی چھچھ کے دارلخلافہ (حضروشہر)کے کچھ بڑے کاروبار مثلاً سبزی منڈیوں وو یجیٹیبل شاپس،کرنسی ایکسچینچ آوٹ لیٹس،بیکری و بڑے پیمانے پر کریانہ سٹورز،اسلامی کتب خانہ جات ،سوئیٹس (ہول سیل)،ہیوی ٹرانسپورٹس کاروبار وغیرہ کالو کلاں کے رہائشیوں کے ہیں،جو کہ حضرو شہر میں کاروباری مصروفیات کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 80 فیصد لوگ گاؤں میں کھیتی باڑی جبکہ 10 فیصد لوگ اپنا کاروبار حضرو اور دیگر شہروں میں کر رہے ہیں اور باقی ماندہ10 فیصد لوگ ملازمت پیشہ و بیرونِ ممالک میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔کالو کلاں گاؤں کچھ لوگ حیدر آباد (سندھ)میں مقیم ہیں اور وہاں بیکری وغیرہ کے کاروبار سے منسلک ہیں اور متعلقہ کاروبار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
اس آرٹیکل کا کریڈٹ محمد عمران آف کالو کلاں، سید مظہر حسین آف شاہ پور،یاسر امین حضروی اور اظہر محمود کو جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں