93

پاکستان کی سیاحت کا مرکزکاغان سطح سمندر سے تقریبا۷۵۰۰فٹ کی بلندی پر واقع ہے

پاکستان کی سیاحت کا مرکزکاغان سطح سمندر سے تقریبا۷۵۰۰فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس وادی میں تقریبا ۹ بڑی چھوٹی جھیلیں ہیں اس لئے یہ وادی جھیلوں کی نیلگوں سر زمین مشہور ہے با لا کوٹ سے وادی کاغان۶۳ کلومیٹر پر واقع ہے وادی کا غان کا پورا علاقہ تقریبا۸۰۰ مربع کلو میٹر پرمحیط ہے وادی کا غان بالا کوٹ کے بعد شروع ہو جاتی ہے بالا کوٹ سے وادی کا غان کا سفر آپ جیپ کار ویگن کے ذریعے کر سکتے ہیں مسافت صرف تین چار گھنٹے کی ہے سرکیں پختہ ہیں سفر آرام دہ ہو گیا ہے بل کھاتی ہوئی سڑکیں سفر کی خوبصورتی ہیں اس وادی میں خوبصورت ریسٹ ہاؤس بنے ہوئے ہیں ہر علاقے میں ہوٹل اور ریسٹورینٹ موجود ہیں وادی کا غان میں قیام و طعام کی جدید ترین سہولتیں حاصل ہیں وادی میں سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے کچھ کچے اور زیادہ تر پکے راستے ہیں بل کھاتے ہوئے راستے خوبصورت عمارتیں اس کی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں وادی کا غان ایک بہت بڑی وادی ہے اس میں تمام اہم ہل اسٹیشن واقع ہیں یہاں پر ضرورت کی تمام اشیاء مناسب ریٹس پر مل جاتی ہیں اس وادی کی اہمیت تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہے اس وادی کی خوبصورتی کے چرچے پوری دنیا میں ہیں نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی لوگ اس وادی کی سیاحت کے لیے آتے ہیںیہ وادی شہید مسلمان مجاہدین کی امانت ہے اس وادی میں تمام نسل کے لوگ آباد ہیں زیادہ ترگوجر برادری آباد ہے جھیل سیف الملوک اس وادی کے ماتھے پرایک سنہری تاج ہے یہاں کے لوگ زیادہ تربہت ہی میٹھی اور بہترین زبان ہندکو بولتے ہیں،

انگریزی اوراردوسے بھی اچھی طرح آشنا ہیں لوگ پشتوپنجابی اور سرائیکی بھی سمجھتے ہیں وادی میں زیادہ تر سواتی سادات مغل کشمیری کوہستانی اور گجر کثرت سے آباد ہیں اس وادی کے لوگ نہ صرف مقامی کھیل بلکہ جدید ترین کھیل سے بھی آگاہ ہیں لوگوں کا دلپسند کھیل کرکٹ ہے کبڈی اور رشکئی اس وادی کے مشہور کھیل ہیں اس خوبصورت وادی میں گندم ،چاول،مکئی ،مٹر اور آلو کی کاشت کی جاتی ہے اس کے علاوہ سبزیا ں اور پھل بھی کثرت سے پیدا ہوتا ہے اس خوبصورت وادی کی صرف ۵ فیصد حصے پر کاشت ہوتی ہے اس وادی کے تمام جنگلات دیو دارچیڑکیکر اور بیارو کھپل سے بھرے پڑے ہیں وادی کاغان میں گھوڑے خچر کی بہت اہمیت ہے جو کی سواری کے کام آتے ہیں مزیدبکریاں بھیڑیں وغیرہ عام پائی جاتی ہیں اس کے علاوہ کھن چوا،چیتا ،ناف،ریچھ مرغ زریں،ہرن،چکورا اور تیتر بھی ملتا ہے وادی کاغان کی آب وہوا سردیوں میں سرد ہے اکثر چٹانیں برف کی چادر اوڑ ھ لیتی ہیں راستے بند ہو جاتے ہیں مگر گرمیوں میں موسم خوشگوار رہتاہے لوگ گرم کپڑے استعمال کرتے ہیں راتیں کافی ٹھنڈی ہوتی ہیں کئی وادیوں میں کہر اور بادل چھائے رہتے ہیں کئی مقامات پر دھوپ نکل آتی ہے اکثر بارشوں اور تیز ہواؤں کا دور دورہ رہتا ہے وادی کاغان کا پورا علاقہ بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ علاقہ بہت دور دور تک پھیلا ہوا ہے اس وادی کو دریائے کنہار چیرکر گزر تا ہے دریائے کنہار کی چاندی کی طرح بل کھاتی ہوئی لکیراور گرمیوں میں پتھروں سے ٹکراتا ہوا رم جم کرتا ہوا پانی اس وادی کے خوبصورتی حسن و جمالیت کوجنت بے نظیر بنا دیتا ہے وادی کاغان کی لوک داستانیں بھی مشہور ہیں درشی منشی اور سیف الملوک کی رومانوی داستانیں وادی کی دھرکن ہیں وادی کا غان سیاحتی نقطہ نظر سے دنیا کی بہت سے خوبصورت فطری اور قدرتی طلسماتی جھیلوں برف پوش پہاڑوں دلکش پھولوں اور دریاؤں کی سر زمین ہے ہر سال لوگ اس وادی کی سیاحت کے لئے آتے ہیں اس وادی کا موسم سرما گرمی کی نسبت لمبا ہوتا ہے اس وادی کی لمبائی ۱۵۰ کلو میٹر تک ہے پہلے اس وادی کا راستہ کچا تھامگر اب شاہرہ کا غان کی تعمیر سے اس وادی کے ترقی کے راستے کھل گئے ہیں پوری وادی کے بل کھاتے ہوئے راستے اونچی نیچی چوٹیاں اور کھائیاں وادی کے سینے کو چیرتا ہوادریائے کہناراس کا وادی کا حسن ہیں پوری وادی میں حکومت پاکستان تمام سہولتیں پہنچانے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف ہیں تاکہ مستقبل میں یہ وادی ترقی کی راہ پر مزید گامزن رہے

وادی کا غان سیاحتی نقطہ نظر سے دنیا کی بہت سے خوبصورت فطری اور قدرتی طلسماتی جھیلوں برف پوش پہاڑوں دلکش پھولوں اور دریاؤں کی سر زمین ہے ہر سال لوگ اس وادی کی سیاحت کے لئے آتے ہیں اس وادی کا موسم سرما گرمی کی نسبت لمبا ہوتا ہے اس وادی کی لمبائی ۱۵۰ کلو میٹر تک ہے پہلے اس وادی کا راستہ کچا تھامگر اب شاہرہ کا غان کی تعمیر سے اس وادی کے ترقی کے راستے کھل گئے ہیں پوری وادی کے بل کھاتے ہوئے راستے اونچی نیچی چوٹیاں اور کھائیاں وادی کے سینے کو چیرتا ہوادریائے کہناراس کا وادی کا حسن ہیں پوری وادی میں حکومت پاکستان تمام سہولتیں پہنچانے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف ہیں تاکہ مستقبل میں یہ وادی ترقی کی راہ پر مزید گامزن رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں