53

جاوید مجید خان کا انٹرویو

جاوید مجید خان کاتعلق حضرو کے انتہائی معروف اور معزز گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد صاحب کانام عبدالمجید خان(مرحوم) ہے جو کہ پولیس میں انسپکٹر تھے۔ آپ کے چچا خواجہ محمد خان اسدؔ کانام علمی ،ادبی حلقوں کیلئے کسی اکیڈمی سے کم نہیں، جن کے بیٹے راشدؔ علی زئی اُن کے نقش قدم پراپنا سفرزندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جاوید مجید خان کے دو بھائی عبدالحمید خان اور طاہر مجید خان ہیں۔ آپ کے دادا کانام عطا محمد خان تھا جو انسپکٹر پولیس تھے۔ عطا محمد خان (مرحوم) کے تین بھائی تھے سب سے بڑے کانام محمد عظیم خان تھا جو پاکستان بننے سے پہلے مجسٹریٹ تھے اور جنہیں ’’ خان بہادر‘‘اور’’ سر ‘‘کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ انہی کے نام سے حضرو کا معروف محلہ عظیم خان منسوب ہے۔ دوسرے بھائی کانام تحصیلدار محمد عمر خان تھا۔ جب کہ تیسرے بھائی کانام دوست محمد خان تھا جوکہ ’’ خان صاحب ‘‘ کے خطاب یافتہ اور پولیس سے DSPکے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے ۔ جاوید مجید خان کے ناناکانام محمد سرور خان (مرحوم) ہے۔ جو برٹش آرمی سے صوبیدار میجر(ر) تھے اور محمد مبارز خان (S.S.P)ریٹائرڈ اور محمد صفدر خان ایڈووکیٹ(واہ کینٹ) کے والد محترم تھے۔
جاوید مجید خان دو مرتبہ بلا مقابلہ کونسلر بنے ، اسی دوران آپ نے وائس چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ۔ بعدازاں آپ نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ دورانِ سیاست آپ اُس وقت کے چیئرمین بلدیہ حضرو کی جانب سے تمام اہم ترین میٹنگز میں اُن کی نمائندگی کیاکرتے تھے۔ جن میں صدر، وزیر اعظم،گورنر اور AC/DCکی میٹنگز قابل ذکر ہیں۔ جاوید مجید خان اعلیٰ اور خوبصورت علمی و ادبی ذوق کے مالک ، انتہائی صاف گواور خوش شکل و خوش لباس انسان ہیں ۔

س: نام /ولد یت ج: جاوید مجید خان/عبدالمجید خان(مرحوم)۔
س: تاریخ پیدائش/جائے پیدائش ج: 20فروری1947 ؁ء/حضرو
س: قوم/قبیلہ ج: پٹھان/علی زئی
س: تعلیمی قابلیت ج: بی اے سپلی(انگلش)
س: بچپن/لڑکپن کے مشاغل ج: وہی جو ایک ناسمجھ بچے کے ہوتے ہیں۔ کھیلنا کودنا وغیرہ۔
س: پسندیدہ کھیل /کھلاڑی ج: فٹ بال/ میراڈونا۔
س: پروفیشن ج: زمینداری
س: سیاسی زندگی کاآغاز ج: 1979 ؁ء
س: سیاسی وسماجی اچیومنٹس ج: اپنا پہلا الیکشن بلامقابلہ جیتا۔ اپنے چارسالہ دورِ کونسلری میں متعدد بے روزگار نوجوانوں کو بلدیہ ،فوج اور پولیس میں بھرتی کرایا۔ چلڈرن پارک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ محلہ عظیم خان میں ڈسپنسری کا قیام عمل میں لایا۔1983 ؁ء میں دوسری مرتبہ بلامقابلہ الیکشن جیتا۔
س: سیاسی وسماجی خدمات ج: صدر ووزیر اعظم، گورنر اور وزیر اعلیٰ کے اہم فنکشنز اور میٹنگز میں چیئر مین بلدیہ حضرو کی نمائندگی بھی کی۔کیونکہ ان ادوار کے چیئر مین اسلم خان (مرحوم ) اور حاجی عبدالقیوم خان(مرحوم) مجھ پر بھر پُور اعتماد کرتے تھے جس کے لیے میں آج بھی اُن کا مشکور ہوں ۔
س: پسندیدہ عالم دین/سیاستدان/شاعر/صحافی(لوکل / انٹرنیشنل)؟ ج: ڈاکٹر فاروق خان (مرحوم)، /احمد فراز، منیر نیازی، پروین شاکر / طارق علی خان، عمران خان، خاور چودھری /سید انوار الحسن، خورشید ندیم ۔
س: پسندیدہ شعر:
بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا
اب مجھے چھوڑ کر دنیا میں تماشا نہ بنا
س: پسندیدہ کتاب /مصنف ج: قرآن پاک، سفرنامے/نسیم حجازی، وصی شاہ۔
س: پسندیدہ کلاس فیلو/استاد ج: میاں مشتاق (مرحوم)، احسن خان(غورغشتی)، ریاض خان (نرتوپہ)، نعمان لودہی (اٹک) /
صفی حیدر دانش۔
س: زندگی کا خوشگوار ترین دن ج: ہر وہ دن جو اچھی صحت اور نماز کے ساتھ شروع اور اپنوں سے ملنے کاامکان ہو۔
س: زندگی کا ناخوشگوار (غمگین) ترین دن ج: ماں باپ کی وفات کا دن۔1996 ؁ء میں ایک بھتیجی کی رُخصتی پر ۔
س: زندگی کا یادگار ترین لمحہ یا واقعہ ج: 1958 ؁ء میں سائیکل (رسالپور) اور1962 ؁ء میں گاڑی کے چلانے پر۔1981 ؁ء میں اسلام آباد سے ایتھنز(یونان)، ترکی(استنبول)، سویڈن ڈنمارک سے ہوتے ہوئے نیویارک ، نیوجرسی ، شکاگو تک اور پھرواپسی پر انگلینڈ(لندن) دوحہ (قطر)سے واپس پاکستان تک کاسفر یاد گار حیثیت رکھتاہے ۔
س: شدید ترین خواہش ج: حج اور روضۂ رسولؐ پر حاضری۔ غریب اور بے سہارا کی مدد اورایک دفعہ پھر دنیا کے گر د
چکر لگانے کی خواہش۔
س: پسندیدہ رنگ /خوشبو/لباس ج: نیلا/موتیا، چنبیلی کا پھول/شلوار قمیض۔
س: پسند یدہ سیاسی پارٹی ج: کوئی نہیں( سب ابن الوقت ہیں) ۔
س: پسندیدہ ٹی وی چینل ج: P.T.Vاور ہر وہ ٹی وی چینل جو معلوماتی پروگرام جیسےDiscoveri،کلچر وغیرہ کے
پروگرام دکھائے ۔
س: آپ کی نظر میں چھچھ کے اہم ترین مسائل ج: صحت، صفائی، تعلیم، نکاسی آب، تھانہ کلچر، ٹریفک کے مسائل شامل ہیں ۔
س: آپ کی نظر میں سب سے بڑی نیکی ج: کسی بھی بے سہارا کی مددکرنا۔
س: آپ کی نظرمیں سب سے بڑا گناہ ج: بے گناہ انسان وحیوان کا قتل۔
س: کس بات پر سب سے زیادہ غصہ آتاہے ج: کسی پر جھوٹی تہمت لگانے اور جھوٹ بولنے والے پر۔
س: کس عمل سے دلی سکون ملتاہے ج: انسانیت کی خدمت کرنا۔
س: کس چیزیا سوچ سے زیادہ خوف آتا ہے ج: قبر سے خوف آتاہے اورکسی سے (دانستہ یا غیر دانستہ )زیادتی پر جو آپ کو کچھ نہ کہہ سکے۔ اُس کی آہ سے خوف آتاہے ۔
س: اگر شیطان سے ملاقات ہو جائے تو ج: میں ا س ذلیل کو کیا کہہ سکتاہوں ۔
س: آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیاجائے تو سب سے پہلاکام کیا کریں گے ج: امیر غریب سب کیلئے ایک ہی لیول کا تعلیمی اور میڈیکل نظام رائج کروں گا۔ مساجد کے اندرسے استنجا خانے باہر نکال دوں گا۔
س: اہلیان چھچھ کے لیے آپ کا پیغام ج: اہلیانِ چھچھ آپس میں یونٹی پیدا کریں تو مسائل کاحل نکل سکتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں