83

جاوید خان صاحب کاانٹرویو

چھچھ کے لوگوں نے پولیس آفیسرز کی حیثیت سے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔انہی افسران میں ایک نام جاوید خان کا ہے ، جن کاشمار پنڈی ڈویژن کے سینئر اور نامور پولیس آفیسرز میں کیاجاتاہے۔1971 ؁ء میں بحیثیتASIبھرتی ہوئے اوراس وقت PSPگریڈ19میں ایس پی ریلوے پولیس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔جاوید خان کاتعلق حمید گاؤں کے ایک معزز اور معروف پٹھان گھرانے سے ہے۔ آپ کے والد محمد انور خان ایک زمیندار تھے۔ آپ کے تین بھائی ہیں۔ جن میں نصرت محمود اور اظہر محمودUSAمیں مقیم ہیں۔ جبکہ تیسرے کانام بشارت محمود ہے۔ آپ کے گھرانے کے سربراہ اور چچازاد بھائی سجاول خان لگاتار5مرتبہ بلامقابلہ یوسی حمید کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ سجاول خان ایک شریف اور باکردار انسان ہیں۔ جاوید خان کے اکلوتے بیٹے کانام نوید انور ہے ، جو2008 ؁ء میں خطرناک حادثے میں شدید زخمی ہوگئے تھے ۔جاوید خان چھچھ کے واحد پولیس آفیسر ہیں جوASIسے گریڈ19میں پہنچے اور کم وبیش50بے روزگارنوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کرایا۔ جن میں ایکSIاور دوASIشامل ہیں۔ آپ کو کتب کے مطالعہ کابہت شوق ہے۔ چھچھ میں آپ کی پسندیدہ شخصیت میاں اختر علی ریٹائرڈSPہیں۔
س:نام /ولد یت ج:جاوید خان/محمد انور خان۔
س:تاریخ پیدائش/جائے پیدائش ج:15دسمبر1951 ؁ء/حمید، حضرواٹک۔
س:قوم/قبیلہ ج:پٹھان/یوسف زئی(میرے آباؤاجداد اُلّمان زئی چارسدہ سے تشریف لائے)۔
س:تعلیمی قابلیت ج:بی اے 1971 ؁ء(گورنمنٹ کالج اٹک)۔
س:بچپن/لڑکپن کے مشاغل ج:گلی ڈنڈا، والی بال۔
س:پسندیدہ کھیل /کھلاڑی ج:بیل دوڑ، کبڈی، ہاکی/عشرت(اٹک) کے دو مشہور ہاکی کے کھلاڑی پسند تھے جبکہ قومی سطح پر ذکاء الدین بٹ ،منیر ڈار، اختر رسول، عمران خان، جاوید میاں داد۔
س:پروفیشن ج:پولیس سروس۔
س:پروفیشنل زندگی کاآغاز ج:1981 ؁ء
س:پروفیشنل اچیومنٹس ج: اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق (مرحوم) نے مجھے غیر معمولی کارکردگی پرSI(سب انسپکٹر) سے انسپکٹر کے رینک پر ترقی دی۔ کم وبیش 5دھائیوں پر محیط سروس کے دوران متعدد تعریفی اسناد اور شیلڈ وصول کیں۔ برطانیہ کے وزٹ کے موقع پر وہاں کے آئی جی نے مجھے اسپیشل شیلڈ سے نوازا۔
س:پروفیشنل خدمات: ج:پنجاب کے مختلف اضلا ع جن میں سیالکوٹ، گجرات، جہلم،راولپنڈی اوراسلام آباد کے علاوہ اینٹی کرپشن شامل ہیں،میں خدمات سرانجام دیں۔ پنڈی ریجن کرائم کا متعدد دفعہ انچارج رہا۔ کسی نہ کسی حیثیت سے پنڈی ڈویژن کے تمام تھانہ جات کی انسپکشن کی۔ میری سروس اورخدمات کااندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ میں پنڈی پولیس کا پہلا رینکر پولیس آفیسر ہوں جو ASIبھرتی ہوا اور PSPگریڈ 19میں پچھلے 5سال سے خدمات پیش کررہا ہوں ۔
س:پسندیدہ عالم دین/سیاستدان/شاعر/صحافی(لوکل انٹرنیشنل)؟
ج:سابق صدر جنرل ایوب خان،ڈاکٹر خان(عبدالولی خان کے بھائی)/منیر نیازی، پروین شاکر/صفدرعباس(مرحوم)،سرور کنول(مرحوم)،یاسر امین حضروی(جس نے دریا کو کوزے میں بند کررکھا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے)۔
س: پسندیدہ شعر:
وہ جہاں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
اک یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
س:پسندیدہ کتاب /مصنف ج:’’آثارالصنادید‘‘/ڈپٹی نذیراحمد۔
س:پسندیدہ کلاس فیلو/استاد ج:اصغر خان (نرتوپہ)، طارق رضا (اٹک)/ماسٹر کرم داد صاحب، پروفیسر زاہد الحسینی صاحبؒ
س:زندگی کا خوشگور ترین دن ج:ہر دن اِس شکر کے ساتھ گزرتا ہے کہ اللہ نے آزاد فضاؤں میں سانس لینے کی توفیق بخشی۔ آزادی ہزار نعمت ہے ۔
س:زندگی کا ناخوشگور (غمگین) ترین دن ج:9محرم2008 ؁ء جب میرے بیٹے نوید انور کا ایکسیڈنٹ ہوا۔
س:زندگی کا یا د گار ترین لمحہ یا واقعہ ج:3مارچ1971 ؁ء جب میں اٹک کالج میں بی اے کاریگولر طالب تھا ،ASIبھرتی ہوا۔
س:آپ کی شدید ترین خواہش ج:میری خواہش ہے کہ میں اپنے علاقے کے بے روزگار نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ بھرتی کرواسکوں ۔
س:پسندیدہ رنگ /خوشبو/لباس
ج:سفید/رات کی رانی، چنبیلی/شلوار قمیض۔
س:پسند یدہ سیاسی پارٹی ج:سرکاری ملازم کی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہوا کرتی ۔
س:آپ کی نظر میں چھچھ کے اہم ترین مسائل ج:ضرورت کیڈٹ کالج، بہترین جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال(خاص طور پر خواتین) ، لاء اِن آرڈر کی بگڑتی صورتحال ،کیونکہ ہمارا علاقہ خیبر پختون خواہ سے ملحقہ ہے ۔
س:آپ کی نظر میں سب سے بڑی نیکی ج:اہل زمین پر رحم کرنا۔
س:آپ کی نظرمیں سب سے بڑا گناہ ج:انسانیت کی دل آزاری کرنا۔
س:کس بات پر سب سے زیادہ غصہ آتاہے ج:جھوٹ سے سخت نفرت ہے ۔
س:کس عمل سے دلی سکون ملتاہے ج:اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کرکے ۔
س:کس چیزیا سوچ سے زیادہ خوف آتا ہے ج:مرنے کے بعد والی منازل سے اور حساب وکتاب سے ۔
س: آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیاجائے تو سب سے پہلاکام کیا کریں گے ج:رب العزت سے کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ اگر اللہ نے موقع دیا تو قرآن وسنت کے عملی نفاذ پر خصوصی احکامات صادر کروں گا۔
س:اہلیان چھچھ کے لیے آپ کا پیغام ؟ج:تعلیم جو میرے چھچھ کے لوگوں کی بنیادی کمزوری ہے۔ میری چھاچھیوں سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کو جدید اور سائنسی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔ اس کے علاوہ اگر گورنمنٹ کیڈٹ کالج بنائے تومیں اپنی قیمتی اراضی وقف کرنے کیلئے تیارہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ عمران خان میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کو اس کاوش پر شاباش دیناچاہتاہوں ۔یہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔ کیونکہ وہ قومیں کبھی ترقی حاصل نہیں کرسکتیں۔ جو اپنے آباؤاجداد اوراسلاف کے کارناموں اور کارہائے نمایاں کو محفوظ نہیں کرسکتیں۔ یقیناًآپ کا یہ کام منفرد اور قابل ستائش ہے۔ میری دعائیں عمران خان آپ کے ساتھ ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں