204

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کا لج اٹک

گورنمنٹ کالج کیمبل پور (موجودہ گورنمنٹ کالج اٹک)کا شمار پنجاب کی قدیم درسگاہوں میں ہوتاہے۔یکم مئی ۱۹۲۴ء ؁ کو اِس نے اِنٹرمیڈیٹ کالج کی حیثیت سے سفر کا آغاز کیا۔کالج کے پہلے پرنسپل مِرزا محمد محسن تھے۔بعد ازاں لال چندرنیئراور پھر شیخ چراغ دین پرنسپل مقرر ہوئے۔شیخ چراغ دین فزکس کے مایہ ناز اُستاد تھے۔اِنتظامی معاملات میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا۔اُن کی کوششوں کے باعث کالج کو ڈِگری کا درجہ عطا ہوا۔ ڈِگری کالج کے پہلے پرنسپل دنیائے کرکٹ کے معروف کھلاڑی ڈاکٹر جہانگیر خان تھے۔کالج کے چارگوشہ لان کی تنظیم و آرائش کالج کے خواجہ عبدالحمید کی کا وشوں کا ثمر ہے۔بعد ازاں اِس اِدارے کو ایسے جلیل القدیر پرنسپل میسر آئے جِن کی کوششوں کے باعث یہ تعلیمی اِدارہ عروج تک پہنچا۔اِن میں مِرزا محمد رشید ،اِشفاق خان،کمانڈر ظہور احمد اور پروفیسر محمد اِسماعیل کے اسمائے گرامی خصوصیت سے قابِل ذِکرہیں۔گورنمنٹ کالج اٹک کو بر صغیر پاک وہند میں شہرت کے حامل اسا تذہ میسر آئے جِن کی فیضانِ نظر سے کئی ذہنوں کی آبیاری ہوئی۔کالج کے مشاہیر اساتذہ میں پروفیسر محمد عثمان ،ڈاکٹر غلام جیلانی برق،ڈاکٹر محمد اجمل ، قاضی زاہد الحسینی، منیر احمد شیخ،پروفیسر محمد شریف کنجائی ،صوفی گلزار احمد،ماجدصدیقی ،وقار بن اِلہیٰ کے اسماء شامل ہیں۔
اس مایہ ناز تعلیمی ادارے میں بیسیوں ایسے طلباء پروان چڑھے،جِنہوں نے آگے چل کر مختلف شعبوں میں ملک و قوم کا نام روشن کیا۔اس کا لج کے بے مثال ومایہ ء ناز طلباء میں احمد ندیم قاسمی ،سید ضمیر جعفری،میجر جنرل عبد العلی ملک،میجر شاہ بہرام خٹک ،میجر ملک سلطان خان شہید ،منو بھائی،شفقت تنویر مرزا،فتح محمد ملک،عنایت الہیٰ ملک،احمد وحید اختر،ڈاکٹر گل فیروز طارق،اور شیخ آفتاب احمد شامل ہے۔۱۹۹۲ء ؁میں اس قدیم ادارے میں پوسٹ گریجویٹ کلاسز کا اجراۂ ہوا۔اب یہاں انگریزی،ریاضی،اکنامکس،کیمسٹری،باٹنی اور فزکس کے شعبوں میں ایم۔اے ،ایم۔ایس۔سی کی سطح پر تدریس ہورہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں