126

۱۹۸۲ء میں گورنمنٹ کالج حضروکا قیام عمل میں آیا

کسی زمانے میں علاقہ چھچھ کی علمی حیثیت مسلم تھی اور یہاں کے علما ء سے ایک عالم مستفیض ہوتارہا ۔اسی حوالے سے اس علا قے کو بر صغیر کا بخارا بھی کہا جا تارہا ۔ اس علا قے کی تعلیمی تر قی اور ا حیائے علوم کے لیے ۱۹۸۲ء میں گورنمنٹ کالج حضروکا قیام عمل میں آیا جس کے لیے علاقے کے لو گ معروف سیاسی و سما جی شخصیت جناب تاج خان زادہ مرحوم کے سپا س گزارہیں۔یکم ستمبر ۱۹۸۹ء میں اس کو ڈگری کا لج کا درجہ دیا گیا۔ابتدا میں اس کی حیثیت انٹر کالج کی تھی اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ سے چند کمرے مستعار لے کر کلاسوں کا با قا عدہ آغاز کیا گیا ،۱۹۹۱ء میں کا لج کو اپنی عمارت میسر آ گئی اس وقت کا لج ۹۹ کنال کے وسیع و عریض رقبے پر محیط ہے جس پر انٹر اور ڈگری کلاسز کے لیے الگ الگ جدید طرز کے خوب صورت بلاک موجود ہیں جن کی تعمیر میں طلبہ کی تعداد ،ضروریات اور سہولیات کوپیش نظر رکھا گیا ۔ ان بلاکس کی تعمیر ات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے، کرنل (ر)شجاع خان زادہ شہیدصا حب کی کو شش سے چار شان دار لیکچر تھیڑ اور لوازمات سے آراستہ کمپیو ٹر لیبا ر ٹری کی تعمیر اسی حسن عمل کا تسلسل ہے ،یاد رہے کہ کمپیو ٹر لیبا ر ٹری کا قیام جنرل جہاں داد مر حوم کا منت پزیر ہے،انھو ں نے کا لج کو اس وقت کمپیوٹر کا تحفہ دیا تھا جب بڑے بڑے کالج کمپیوٹر سے محروم تھے فزکس لیبا ر ٹری کا قیام شیخ آفتاب احمد صاحب کی دلچسپی کا نتیجہ ہے ۔کا لج کی ملکیت میں ایک وسیع ،آراستہ اور دید ہ زیب کثیر المقاصد ہال بھی ہے، جس میں بہ یک وقت ۴۰۰ طلبہ کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔اس کے علاوہ ایک وسیع و عریض گراؤنڈ ہے جو فار غ اوقات میں طلبہ کی تفر یح اور کھیلوں کے لیے مختص ہے ۔ کالج کے اندر ہی ایک نہایت خوب صورت مسجد بھی ہے،جس میں کالج کے اوقات کار میں نماز با جماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔دور سے نظر آنے والا مسجد کا بلند وبالا مینار نہ صر ف کالج کی خوب صورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ کالج کی نشان دہی کا سبب بھی ہے۔مسجد کی آرائش اور مرمت مذہبی فریضہ سمجھ کر کی جاتی ہے،ہر سال حسب روایت اس کی آرائش و مرمت کو خصو صی اہمیت دی جاتی ہے۔لائبر یر ی کے بغیر کسی ادارے کا وجود بیمار دل کی طرح ہے جو کام تو کرتا رہتا ہے لیکن زندگی کی مقا صد حاصل کر نے سے قا صر ہوتا ہے،الحمداللہ کالج کے پاس۸۰۰۰سے زائد کتب پرمشتمل لا ئبریری ہے۔جس میں مختلف موضوعات کے متعلق کتا بیں موجود ہیں اس کے علاوہ۲۰۱۱میں گوشۂ اٹک قا ئم کیا گیاہے جس میں ضلع بھر کے علما،ادبا، محققین،افسانہ نگار اور شعرا کی تصا نیف ورسا ئل رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ضلع بھر میں اس قسم کی پہلی کو شش ہے۔یہ گو شہ محققین اور دیگر اہل قلم کے لیے خصوصی کشش ر کھتا ہے ،کا لج لا ئبریری ملک محمد اسلم مر حوم کے خصو صی تعاون سے وجود میںآئی،۲۰۰۸ء سے کالج کامجلہ’’ سنگم ‘‘پوری آب و تاب سے شا ئع ہورہاہے ۔اس میں طلبہ کے ساتھ ساتھ اسا تذہ فن اور محققین کی تخلیقات ،مضامین اور مقالات شائع ہوتے ہیں۔کالج کے احاطے کے اندر ہی کینٹین ہے جہاں اسٹاف اورطلبہ کے لیے ما کو لات دستیاب ہوتی ہیں ۔کا لج انتظامیہ کینٹین کے معا ملات کی کڑی نگرانی کرتی ہے تا کہ دستیاب چیز یں معیاری اور حفظان صحت کے اصو لوں کے مطابق ہو۔اس ادارے کا انٹرمیڈیٹ کی سطح پرراول پنڈی تعلیمی بورڈ اور بی اے/ بی ایس سی کے لیے پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہے۔ادارے میں طلبہ کی نصابی تعلیم کے سا تھ سا تھ ہم نصابی سر گر میوں ،کرد ا ر سازی اور ان کی ذہنی و فکری صلا حیتوں کی نشونما پر خصوصی تو جہ دی جاتی ہے اس کے علاوہ تدریس میں جذبہ حب و طنی اور نظریہ پا کستان کے تحفظ کو خاص اہمیت حاصل ہے تاکہ یہاں سے فا رغ التحصیل ہو نے والے طلبہ کا لج کی نیک نا می کے ساتھ ساتھ جذبہ حب وطنی سے سرشار ہو کر ملک و ملت کی خدمت کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں